پاکستان افغانستان جھڑپوں میں ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور، یو این
امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی پاک-افغان جھڑپوں کے بعد افغانستان میں انسانی ضروریات تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ اس کشیدگی کے باعث چھ صوبوں میں 94 ہزار سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جبکہ 90 ہزار افراد کی طبی سہولیات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔
لڑائی میں سرحد پار گولہ باری اور فضائی حملوں کے باعث گھروں، طبی مراکز، سکولوں اور دیگر شہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امدادی سرگرمیاں متاثر
ان حالات میں امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں جبکہ بارودی مواد اور دیگر دھماکہ خیز اسلحہ سے لاحق خطرات بھی موجود ہیں جن کے باعث سیکڑوں شہری ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ رواں ہفتے گولہ باری کے نتیجے میں افغانستان میں ایک اور پاکستان میں تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
بدھ کو شمال مشرقی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ایک سکول کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا جسے شدید نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
اوچا کے مطابق، اگرچہ کنڑ کے دو اضلاع اور ہمسایہ صوبہ نورستان کے درمیان مرکزی شاہراہ دو ماہ بند رہنے کے بعد سوموار کو کھول دی گئی لیکن سلامتی کے خدشات کے باعث اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں تاحال معطل ہیں جبکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بیشتر سرحدی گزرگاہیں اب تک بند ہیں۔