انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ کشیدگی: یونیسکو کی طرف سے ثقافتی ورثے کا اضافی تحفظ

لبنان کے تاریخی شہر صور کے قدیم پتھریں کھنڈرات، جن میں صاف نیلے آسمان کے نیچے ایک نمایاں پتھریں قوس اور سرکوفیگیاں موجود ہیں، جبکہ پس منظر میں جدید عمارتیں نظر آ رہی ہیں۔
© UNESCO لبنان کے شہر صور میں واقع آثار قدیمہ کا مقام الباس مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران بمباری کی زد میں آنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی: یونیسکو کی طرف سے ثقافتی ورثے کا اضافی تحفظ

ثقافت اور تعلیم

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے لبنان میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے 39 مقات کو بہتر تحفظ کے درجے میں شامل کر لیا ہے۔

 مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران، لبنان اور اسرائیل میں ثقافتی اہمیت کے حامل کئی مقامات حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان جگہوں کے تحفظ کو یقینی بنانا یونیسکو کی ذمہ داری ہے۔ ادارے میں ثقافت اور ہنگامی حالات سے متعلق شعبے کی سربراہ کرسٹا پکیٹ نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ 'بہتر تحفظ' بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب اعلیٰ ترین سطح کا تحفظ ہے جو 1954 کے ہیگ کنونشن کے دوسرے ضابطے کے تحت مہیا کیا جاتا ہے۔

Tweet URL

یہ درجہ ان مقامات کو دیا جاتا ہے جو انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور اس کے تحت انہیں عسکری کارروائیوں سے زیادہ سے زیادہ استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگر کوئی ریاست یا فریق اس ضابطے کی خلاف ورزی کرے تو اسے جنگی جرم کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے۔

یونیسکو لبنان میں مقامی حکام، خصوصاً محکمہ آثار قدیمہ کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کرتا اور ہنگامی حالات میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تکنیکی مشورے اور مدد فراہم کرتا ہے۔ اس میں تربیت، ہنگامی فہرست سازی، حفاظتی اقدامات، ذخیرہ گاہوں کی بحالی، منتقل کیے جانے کے قابل ورثے کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے رہنما اصول اور محفوظ مقامات کو 'بلیو شیلڈ' کے نشان سے واضح کرنا شامل ہے تاکہ ان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

20 ثقافتی مقامات کا نقصان

یونیسکو بارہا خبردار کر چکا ہے کہ ایران اور لبنان میں جنگ کا خطے کے نہایت اہم اور متنوع ثقافتی ورثے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد یونیسکو کو 20 سے زیادہ ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں عالمی ورثہ قرار دی گئی اور قومی اہمیت کی حامل دیگر جگہیں بھی شامل ہیں۔

ادارہ اس بارے میں مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کی تصدیق کرتا ہے جس میں سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کردہ تصاویر بھی شامل ہیں۔ ان کا سابقہ تصاویر سے موازنہ کیا جاتا ہے یا موقع پر جا کر صورتحال سے آگاہی لی جاتی ہے۔ 

یونیسکو نے خطے میں پانچ ثقافتی مقامات کو جنگ میں نقصان پہنچنے کی تصدیق کر دی ہے جن میں ایک یہودی عبادت گاہ (سینی گاگ)، گلستان محل، سعد آباد محل اور قدیم سینیٹ محل شامل ہیں۔ یہ تمام مقامات ایران میں واقع ہیں جبکہ لبنان کے شہر صور میں بھی ایک تاریخی مقام کو نقصان پہنچا ہے۔ 

ثقافت اور ورثے کی اہمیت

یونیسکو خاص طور پر مسلح تنازعات کے دوران تعلیمی، ثقافتی، ابلاغی اور سائنسی اداروں کے تحفظ پر زور دیتا ہے کیونکہ یہی ادارے مستقبل کی معاشروں کی بنیاد ہوتے ہیں۔

ثقافت اور ورثہ لوگوں کی شناخت کو تشکیل دیتے اور انہیں سہارا اور حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ جب معاشرے کے ان بنیادی ستونوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ان کی تباہی صدمے کو بڑھاتی، نفرت کو جنم دیتی اور بحالی وی مکالمے کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے۔

کرسٹا پکیٹ کا کہنا ہے کہ ثقافت کو صرف ایک نازک شے نہیں سمجھنا چاہیے جسے تحفظ کی ضرورت ہے، بلکہ یہ مضبوطی کا ذریعہ ہونے کے ساتھ معاشی بحالی اور قیام امن کے لیے بھی ضروری ہے۔