حالیہ غزہ جنگ میں 38,000 خواتین و لڑکیاں ہلاک ہوئیں، یو این ایمن
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کو چھ ماہ گزر جانے کے باوجود علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش خطرات کم نہیں ہو سکے جس کی وجہ خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث عالمی توجہ میں آنے والی کمی ہے۔
صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ویمن) نے کہا ہے کہ جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور خواتین و لڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور علاقے میں بڑے پیمانے پر بلا رکاوٹ انسانی امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
ادارے کی جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2023 سے دسمبر 2025 کے درمیان غزہ میں 38,000 سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کی ہلاکت ہوئی جن میں 22,000 سے زیادہ خواتین اور 16,000 لڑکیاں شامل ہیں۔ اس طرح اوسطاً روزانہ کم از کم 47 خواتین اور لڑکیاں ہلاک ہوئیں۔
اکتوبر 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود حالیہ مہینوں میں بھی خواتین اور لڑکیوں کے قتل کے واقعات جاری ہیں جو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات بدستور برقرار ہیں۔
دائمی جسمانی معذوری
اس رپورٹ کا عنوان 'غزہ میں خواتین اور لڑکیوں پر جنگ کے اثرات' ہے جو یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگ میں تقریباً 11,000 خواتین اور لڑکیاں زخمی ہوئیں جن میں سے متعدد کو عمر بھر کی جسمانی معذوری کا سامنا ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد معلوم اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہیں جبکہ صحت کے نظام کی تباہی کے باعث اموات اور زخمیوں کا درست ریکارڈ رکھنا بھی انتہائی مشکل ہے۔
عرب ممالک کے لیے یو این ویمن کے علاقائی ڈائریکٹر معیز دورید نے کہا ہے کہ جنگ نے خواتین اور لڑکیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ بھاری جانی نقصان کے علاوہ خاندانی ڈھانچے بھی بدل گئے ہیں اور اب ہزاروں گھرانوں کی کفالت خواتین کے کندھوں پر آ گئی ہے۔ انہیں شدید معاشی مشکلات اور بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے جبکہ وہ دیکھ بھال اور بقا کی مکمل ذمہ داری بھی اٹھا رہی ہیں۔
یو این ویمن کا معاون کردار
معیز دورید کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا مکمل نفاذ، اس کی شرائط کی پابندی، بین الاقوامی قانون کا احترام، موثر احتساب اور خواتین و لڑکیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا۔ علاوہ ازیں، انہیں بحالی اور قیام امن کے عمل میں مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے جبکہ تعمیر نو میں ان کی بامعنی شمولیت بھی ضروری ہے۔
یو این ویمن غزہ میں خواتین کے زیر قیادت کام کرنے والی اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور انہیں مالی معاونت، رابطہ کاری اور تکنیکی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
ادارہ امدادی شراکت داروں اور خواتین کی تنظیموں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ تمام خواتین اور لڑکیوں کو ضروری امداد میسر آئے اور فیصلہ سازی و تعمیرنو کے عمل میں خواتین کی تنظیموں کو مناسب نمائندگی اور وسائل فراہم کیے جائیں۔