اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان خوش آئند، یو این چیف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلیو لائن کے دونوں جانب کشیدگی اور لوگوں کی تکالیف کا خاتمہ کرنے کے اقدامات خوش آئند ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر کہا ہے کہ اقوام متحدہ قیام امن کی کوششوں کے لیے حمایت فراہم کرنے کو تیار ہے۔ فریقین کو چاہیے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر پوری طرح عملدرآمد کریں تاکہ تنازع کا دیرپا خاتمہ اور مستقبل جنگ بندی ممکن ہو سکے کیونکہ اس کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔
ترجمان نے حزب اللہ سمیت تمام فریقین سے جنگ بندی کی پابندی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی عوام نے بے حد تکلیفیں برداشت کی ہیں اور شمالی اسرائیل کے رہائشی بھی امن سے جینے کے حق دار ہیں۔
لبنان میں بگڑتے انسانی حالات
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین 2 مارچ سے جاری جھڑپوں کے باعث ملک بھر میں انسانی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور عام شہری اس تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات سے لبنان کے تقریباً 15 فیصد علاقے متاثر ہوئے ہیں اور 12 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ صور تک رسائی کے اہم راستے قاسمیہ پل پر بمباری نے دریائے لیطانی کے جنوبی علاقوں کو دیگر جگہوں سے کاٹ دیا ہے جس سے ایک لاکھ چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی امن فورس کی کارروائیوں میں بھی خلل آیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ لبنان میں جنگ سے متاثرہ 10 لاکھ افراد کی ہنگامی مدد کے لیے 30 کروڑ 80 لاکھ ڈالر درکار ہیں جبکہ اب تک اس میں ایک چوتھائی سے بھی کم وسائل مہیا ہو سکے ہیں۔ ضرورت مند لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وسائل کی قلت کے باعث ضروری امداد یا خدمات میں کمی آنے یا ان کی معطلی کا خدشہ ہے۔
طبی سہولیات پر حملے
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے جنوبی لبنان کے قصبے مفیدون میں ایمبولینس گاڑیوں کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، علاقے میں ایک فضائی حملے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف ایمبولینس گاڑیوں پر بھی حملے کیے گئے جن میں چار طبی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
دفتر نے واضح کیا ہے کہ طبی عملے کو ہر حال میں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانا جنگی جرم ہے اور اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان تک امدادی رسائی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے طبی مراکز کو مدد فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طبی مراکز، عملے، ایمبولینس گاڑیوں اور مریضوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ لبنان بھر میں محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ امدادی رسائی ملنی چاہیے تاکہ زندگی کو تحفظ دینے کی خدمات کسی تاخیر اور خطرے کے بغیر فراہم کی جاتی رہیں۔