یوکرین: شہروں پر روس کے تازہ حملے قابل مذمت، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے یوکرین کے شہر نیپرو، اوڈیسا اور دارالحکومت کیئو میں شہریوں پر روس کے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے جن میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار میتھائس شمل نے کہا ہے کہ ان حملوں میں لوگوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے گھر تباہ ہوتے دیکھے۔ بہت سے شہریوں نے رات پناہ گاہوں میں گزاری اور اپنے خوفزدہ بچوں کو تسلی دیتے رہے۔ اس نوعیت کے حملے اب صرف محاذ جنگ کے قریب واقع علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ دور دراز شہروں میں بھی معمول بن گئے ہیں۔ نیپرو جیسے شہروں میں لوگ کئی راتوں سے شدید حملوں کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ اوڈیسا میں بھی یہی صورتحال ہے۔
انہوں روس سے شہری علاقوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف تشدد کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
درجنوں ہلاک، 100 زخمی
اطلاعات کے مطابق یوکرین کے ان تینوں شہروں میں رات بھر کی بمباری میں ایک بچے سمیت درجنوں افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یوکرینی حکام نے بتایا ہے کہ روس کی جانب سے گزشتہ روز تقریباً 700 ڈرون، 19 بیلسٹک میزائل اور کروز میزائل داغے گئے جن میں سے متعدد کا ہدف دارالحکومت کیئو تھا۔
اگرچہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر ڈرون اور کئی میزائل تباہ کر دیے لیکن دیگر نے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔
بچوں کے لیے بڑھتے خطرات
یوکرین میں بچوں کو لاحق خطرات حالیہ ہفتوں میں کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نگران مشن نے بتایا ہے کہ، صرف مارچ میں ہی بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات میں 65 فیصد اضافہ ہوا اور اس دوران 89 بچے حملوں کا نشانہ بنے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے تصدیق کی ہے کہ فروری 2022 میں روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم 3,452 بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف تصدیق شدہ واقعات پر مشتمل ہیں اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
چار سال سے جاری اس جنگ کے دوران ہزاروں بچوں کو بارہا اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ یونیسف کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق، 15 سے 19 سال کی عمر کے ہر تین میں سے ایک نوجوان نے جان بچانے کے لیے کم از کم دو مرتبہ نقل مکانی کی ہے۔
یوکرین میں یونیسف کی نمائندہ این کلیئر ڈفی کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی بچہ محفوظ نہیں اور ہر جگہ تمام بچوں کو حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔