ایپسٹین فائلز: کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال پر احتساب کا مطالبہ
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے امریکہ میں ایپسٹین فائلز سے سامنے آنے والے انسانی سمگلنگ کے الزامات پر احتساب اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ انکشافات طاقت کے پدرشاہی نظام کی مسلسل پرتشدد حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں قابل بھروسہ الزامات تشویشناک ہیں جن میں کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو جنسی استحصال کے لیے منظم انداز میں سمگل کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ان الزامات میں اعلیٰ سطحی سیاست دانوں، عوامی شخصیات، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات اور ممتاز ماہرین تعلیم کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ شواہد نہایت چونکا دینے والے ہیں جو دہائیوں تک مختلف ممالک سے لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی سمگلنگ، اس کی روک تھام میں ناکامی، متاثرین کی شناخت، مدد اور انہیں تحفظ فراہم کرنے میں کوتاہی اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی میں ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ریاستوں اور قانون کا کمزور ردعمل
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکیوں اور خواتین کی خرید و فروخت اور ان کے ساتھ کی جانے والی سفاکی کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ ایسی بے شمار لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی زندگیاں اور بچپن تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ بات قابل تعریف ہے کہ متاثرین نے منظم ہو کر نہایت جرات کے ساتھ فوری اقدامات اور انسانی حقوق کے قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ سنگین جرم اور حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ اس معاملے میں ریاستوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل کمزور رہا جو الزامات کی سنگینی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
احتساب میں ناکامی ایک ایسے ماحول کو فروغ دیتی ہے جس میں مجرم بچ نکلتے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ نقصان متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو ہوتا ہے۔ بچوں کی سمگلنگ اور جنسی استحصال ان کے بچپن کو تباہ کر دیتے ہیں اور ان کی زندگی، بقا اور صحت پر طویل مدتی تباہ کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔
انصاف، احتساب اور تلافی کی ضرورت
ماہرین نے رکن ممالک کو یاد دہانی کرائی ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کریں، متاثرین کی نشاندہی کی جائے اور انہیں مدد اور تحفظ فراہم کریں اور اس جرم کے ذمہ داروں کو سزا دے کر انصاف اور احتساب کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
متاثرین کو موثر تلافی کا حق حاصل ہے جس میں انہیں معاوضہ کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور سمگلنگ کے معاملات میں جوابدہی کی ناکامی محض فوجداری انصاف کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسے بنیادی امتیاز کی عکاسی بھی کرتی ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون واضح طور پر ممنوع قرار دیتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ متاثرین کے لیے طبی امداد، بشمول تولیدی اور جنسی صحت کی سہولیات، نفسیاتی مدد اور طویل مدتی سماجی بحالی کے اقدامات کی ضمانت دی جانی چاہیے۔ متاثرین کی قیادت میں جوابدہی کا مطلب سب سے پہلے ان کی عزت و وقار کا تحفظ ہے۔ جوابدہی ایک کثیر الجہتی اور انفرادی عمل ہے جو متاثرین کے حقوق، ضروریات اور خواہشات کی عکاسی کرے۔ رکن ممالک کو انسانی حقوق کی ان وسیع اور منظم پامالیوں پر کارروائی کرنا لازم ہے اور یہ ذمہ داری بہت پہلے پوری ہو جانا چاہیے تھی۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔