خانہ جنگی کے تین سال: سوڈان مظالم کی تجربہ گاہ بن چکا ہے، ٹام فلیچر
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ سوڈان میں فوری جنگ بندی ناگزیر ہے جہاں خارجی مداخلت اور اس جنگ کو بڑھانے والے ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنا ہو گی۔ ملک میں قابل اعتماد اور مشمولہ سیاسی عمل کا آغاز ہونا چاہیے جو سوڈانی عوام کی امنگوں کی عکاسی کرے۔
انہوں نے یہ بات جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سوڈان سے متعلق تیسری بین الاقوامی کانفرنس کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں کہی۔ اس کانفرنس کا مقصد سوڈان کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرنا تھا جہاں جاری سفاکانہ جنگ چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔
جرمنی، افریقی یونین، یورپی یونین، فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اس کانفرنس میں شریک ممالک نے سوڈان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ امدادی وسائل فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سوڈانی شہریوں کے لیے یہ ڈراؤنا خواب ختم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اتحاد اور فوری اقدام کی ضرورت ہے۔ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، امدادی کارکنوں کو محفوظ ماحول میں کام کرنے دیا جائے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے حسب ضرورت وسائل مہیا کیے جائیں۔ امداد مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے پائیدار امن کا قیام ضروری ہے۔
مظالم پر احتساب کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مظالم کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے تشدد کا خاتمہ اور مزید ظلم کی روک تھام ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے دفتر نے انسانی حقوق کی بنیاد پر اعتماد سازی کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں احتساب کو امن کے کسی بھی راستے کا بنیادی حصہ قرار دیا گیا ہے اور یہ تجاویز تنازع کے فریقین، اہم رکن ممالک اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بھی پیش کی جا چکی ہیں۔
وولکر ترک نے کہا کہ سوڈان میں تباہی کے پیچھے تزویراتی اور معاشی مفادات کا ایک پیچیدہ جال ہے جس میں بڑے پیمانے پر منافع کے حصول کا لالچ بھی شامل ہے۔ متحارب فریق ملک کے سونے، مویشیوں اور گوند عربی جیسے وسائل کا استحصال کر کے جنگی اخراجات پورے کر رہے ہیں جبکہ خارجی طاقتیں جدید اسلحہ اور مالی مدد فراہم کر کے اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ دارفور میں اسلحہ پابندی کی مکمل پاسداری کی جائے، ہتھیاروں کی ترسیل بند ہونی چاہیے اور سوڈان کی مجموعی صورتحال کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے سپرد کیا جائے۔
مظالم کی تجربہ گاہ
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان گویا مظالم کی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں شہروں کے محاصرے، خوراک کی فراہمی میں رکاوٹیں، جنسی تشدد کا بطور ہتھیار استعمال اور سکولوں و ہسپتالوں پر حملوں جیسے واقعات عام ہیں۔
رواں سال ہی ڈرون حملوں میں 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ تین برس میں 130 امدادی کارکنوں کی ہلاکت بھی ہوئی۔
اس جنگ نے بدترین انسانی بحران اور نقل مکانی کو جنم دیا ہے۔ تقریباً تین کروڑ 40 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ ایک کروڑ 40 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، ایک کروڑ 90 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں اور ایک کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
خلیجی بحران کے اثرات
ٹام فلیچر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور خوراک، ایندھن اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے جو 25 فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔ سوڈان کی نصف کھاد خلیجی ممالک سے آتی ہے اور اپریل و مئی میں کاشت کا اہم موسم شروع ہونے والا ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار رواں سال ملک بھر میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد تک پہنچنے کے لیے 2.2 ارب ڈالر کی اپیل کر رہے ہیں جن سے دو کروڑ افراد کی مدد کی جانا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امدادی راستوں کو کھلا رکھا جائے اس حوالے مشرقی چاڈ سے ادرے کے سرحدی راستے کا فعال رہنا ضروری ہے جو دارفور کے لاکھوں افراد تک امداد پہنچانے کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
انہوں نے ریاست کردفان اور نیل ابیض تک محفوظ رسائی بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دارفور میں امدادی اداروں کی موجودگی بڑھانا ہو گی۔ اس وقت وہاں 93 امدادی کارکن موجود ہیں جو اکتوبر کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہے۔