ملائیشیا: کشتی ڈوبنے سے 250 روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ
اقوام متحدہ نے بحیرہ انڈیمان میں ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 250 افراد کے ہلاک یا لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس کشتی میں روہنگیا پناہ گزین اور بنگلہ دیشی شہری سوار تھے۔
حادثے کا شکار ہونے والی کشتی گزشتہ جمعرات کو بنگلہ دیش سے ملائشیا کے لیے روانہ ہوئی تھی لیکن تیز ہواؤں، طوفانی سمندر اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کی موجودگی کے باعث ڈوب گئی۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ یہ سانحہ روہنگیا پناہ گزینوں کے بحران کو پائیدار انداز میں حل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک لوگوں کی نقل مکانی اور ان کے لیے محفوظ متبادل کی عدم دستیابی سے پیدا ہونے والی مایوسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ روہنگیا پناہ گزینوں کو ایسے ہی حالات درپیش ہیں جس کے باعث ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
باعزت و محفوظ واپسی
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں اور ان کے میزبان لوگوں کی مدد میں اضافہ کرے اور میانمار سے روہنگیا آبادی کی نقل مکانی کی بنیادی وجوہات کو حل کرے تاکہ پناہ گزینوں کی باعزت اور محفوظ واپسی ممکن ہو سکے۔
روہنگیا مسلم اقلیت کو ان کے ملک میانمار میں طویل عرصہ سے شہریت اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ 2017 میں شدت اختیار کرنے والے تشدد کے باعث سات لاکھ 50 ہزار سے زیادہ لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لے رکھی ہے جہاں انہیں کاکس بازار میں واقع پناہ گزین کیمپ میں رکھا گیا ہے جو دنیا میں بے گھر لوگوں کی سب سے بڑی بستی سمجھی جاتی ہے۔