مشرق وسطیٰ: یو این کی امن کوششیں تیز، ایران کے لیے امداد کا اعلان
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے ژاں آرنو عمان کے دورے پر ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کے ممکنہ کردار پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ژاں آرنو خطے کے دورے میں سعودی عرب بھی گئے ہیں جہاں انہوں نے تنازع کا جامع حل نکالنے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام لانے کے لیے سعودی عرب کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے بات چیت کی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے گزشتہ روز اس بات پر زور دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور ایران۔امریکہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کی کوشش کی جائے۔
ایران کے لیے ہنگامی امداد
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں امدادی کارروائیوں کے لیے ادارے کے مرکزی ہنگامی فنڈ سے 12 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ یہ وسائل صحت، پانی، نکاسی آب، صفائی اور غذائی تحفظ کے شعبوں مدد دینے کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور جہاں ممکن ہوا، امدادی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے مقامی شراکت داروں کے ذریعے اور حکومت کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دی جائیں گی۔
ایرانی حکام کے مطابق، 28 فروری سے 8 اپریل کے درمیان ملک بھر میں ہونے والے فضائی حملوں میں 2,360 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے جن میں 257 خواتین اور 220 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ اس صورتحال نے بنیادی طبی سہولیات پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
شہری تنصیبات کا نقصان
ایران پر حملوں کے نتیجے میں گھروں، سکولوں، طبی مراکز اور دیگر اہم شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ان علاقوں میں ہے جو شدید بمباری کا نشانہ بنے اور جہاں دیگر علاقوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد سلامتی کی صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے، لیکن وسیع پیمانے پر تباہی، ملبے اور جنگ کے نتیجے میں باقی رہ جانے والے دھماکہ خیز یا زہریلے مواد کی موجودگی اب بھی لوگوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی سے روکے ہوئے ہے اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ بحران بالخصوص گنجان آبادی والے علاقوں میں سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔