انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران جنگ سے چھوٹے جزائر پر مبنی ملکوں میں بجلی بند ہونے کا خطرہ

ٹوکلاؤ کے فاکاؤفو اٹول میں فالی جزیرے پر فالی جزیرے پر ایک ساحلی گاؤں ، جس میں بادلوں والے آسمان کے نیچے مکانات اور کھجور کے درخت ہیں ، جو سمندری لہروں سے گھرا ہوا ہے۔
© UNICEF/Vlad Sokhin بحرالکاہل میں واقع دو ہزار نفوس پر مبنی ایک جزیرہ۔

ایران جنگ سے چھوٹے جزائر پر مبنی ملکوں میں بجلی بند ہونے کا خطرہ

معاشی ترقی

بحرالکاہل میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کے لیے مشرق وسطیٰ کا بحران کوئی دور کی خبر نہیں رہا بلکہ ان کے لیے اس کے اثرات ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، بجلی کی غیر یقینی صورتحال اور اس خدشے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں کہ عالمی سپلائی چین کے آخری سرے پر واقع یہ ملک مزید معاشی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) میں الکاہل خطے کے لیے اعلیٰ سطحی عہدیدار ٹویا الٹینگیرل نے کہا ہے کہ یہ ممالک سپلائی چین کے بالکل آخری سرے پر ہیں اس لیے توانائی کا بحران انہیں بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

بحرالکاہل میں فجی ایک اہم ملک ہے جس کے گرد جزائر دنیا کے سب سے بڑے سمندر میں ہزاروں میل تک پھیلے ہوئے ہیں اور بعض جزائر کے درمیان فاصلہ تین ہزار میل تک ہے۔ دنیا کے باقی حصوں سے دوری ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

فجی سے لے کر توالو اور سولومن سے جزائر مارشل تک، بہت سی حکومتیں موجودہ حالات میں ایندھن بچانے، کمزور طبقات کو سہارا دینے اور ضروری خدمات کو جاری رکھنے کے اقدامات کر رہی ہیں۔ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ تیل کی قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ اور ایشیائی منڈیوں میں ایندھن کی فراہمی میں آنے والا خلل کس قدر تیزی سے ان ممالک پر اثر انداز ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز گزشتہ ایک ماہ سے بڑی حد تک بند ہے۔ یہ عالمی سپلائی چین کے لیے نہایت اہم راستہ ہے کیونکہ دنیا بھر میں سمندری راستے سے تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد رسد اسی سے گزرتی ہے۔

اس تناظر میں بحرالکاہل کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ آبنائے میں خلل کے باعث ایندھن کی قیمتیں، جہازوں کے ایندھن کی لاگت اور مال برداری کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ ان جزائر کے تجارتی و ترسیلی روابط زیادہ تر ایشیائی بحرالکاہل کی منڈیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یوں ایک دور دراز تنازع بھی ان علاقوں کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے۔

کمزور بحری روابط

اقوام متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے (انکٹاڈ) کے مطابق، سمندری نقل و حمل ان ممالک کی بقا کے لیے لازمی اہمیت رکھتی ہے لیکن ان کے بحری روابط دنیا میں سب سے کمزور شمار ہوتے ہیں۔ 

ان جزائر تک براہِ راست جہاز بہت کم آتے ہیں جس کے باعث سامان ایک سے دوسرے جہاز میں منتقل کرنا ہوتا ہے اور اس عمل سے قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بعض ممالک کے ساحل پر سال میں صرف 40 سے 50 جہاز ہی آتے ہیں۔

یہ کمزور روابط بڑھتے اخراجات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر اہم ہے جو خطے کے باہر سے آتا ہے جس پر درمیانی بندرگاہوں کے اضافی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2022 میں ان ممالک نے درآمدات کی ترسیل پر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں دو گنا زیادہ خرچ کیا۔

ایسے حالات میں ان ممالک کے پاس کسی نئی رکاوٹ کو برداشت کرنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔

تیل پر انحصار اور بڑھتے خطرات

اس خطے کی کمزوری درآمدی ایندھن پر انحصار کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ بحرالکاہل میں درآمد ہونے والے ایندھن کا تقریباً 70 فیصد نقل و حمل کے شعبے میں استعمال ہوتا ہے اور بعض ممالک میں سمندری نقل و حمل اس کی سب سے بڑی صارف ہے۔

یہ انحصار ان ممالک کو تیل و گیس کی عالمگیر سپلائی میں کسی بھی خلل کے لیے نہایت حساس بنا دیتا ہے۔ ایسے کئی ممالک تقریباً مکمل طور سے ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، تووالو اپنی 90 فیصد سے زیادہ توانائی ڈیزل سے حاصل کرتا ہے۔ 'یو این ڈی پی' طویل المدتی حل کے طور پر اس پورے جزیرے کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے کیونکہ موجودہ بحران سے واضح ہوتا ہے کہ درآمدی ڈیزل پر انحصار کو کم کرنا کس قدر ضروری ہے۔

کفایتی اقدامات

بحرالکاہل کے مختلف ممالک میں حکومتیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔ 

فجی میں حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کو ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ فجی چونکہ اس خطے میں ایندھن کی تقسیم کا مرکز ہے اس لیے دیگر ممالک پر ذخیرہ اندوزی کے اثرات مزید شدید ہوتے ہیں۔

تووالو نے 14 اپریل کو ایندھن کی بچت کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی جبکہ جزائر مارشل نے 90 دن کی معاشی ایمرجنسی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جزائر سولومن کے پاس صرف 40 سے 50 دن کا ایندھن ذخیرہ موجود ہے۔

ونوآتو نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے خبردار کیا ہے جبکہ پالاؤ، ناؤرو اور کیریباتی بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

عوامی مشکلات میں اضافہ

عام لوگوں کے لیے یہ بحران حقیقت بن چکا ہے، اور کئی علاقوں میں بجلی اور خدمات کی فراہمی میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

تووالو میں روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ فجی جیسے نسبتاً بہتر معیشت والے ملک میں بھی بعض علاقوں میں بجلی بند رہنے لگی ہے۔ حالیہ طوفانوں نے بھی فجی اور سولومن جزائر کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

ٹویا الٹینگیرل نے خبردار کیا ہے کہ اصل آزمائش ابھی باقی ہے۔ اگر مئی اور اس کے بعد قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر تووالو میں ساحلی تحفظ کا منصوبہ بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتا ہے جس کا مقصد سمندر کی بلند ہوتی سطح سے جزیرے کو بچانا ہے

موجودہ حالات میں بحرالکاہل کے ان ممالک کے لیے پیغام واضح ہے کہ ایک دور دراز سمندری گزرگاہ میں پیدا ہونے والا بحران تیزی سے مہنگائی، ایندھن کی قلت اور بجلی کی کمی میں تبدیل ہو کر ان کمزور ممالک کو دنیا سے کاٹ سکتا ہے اور انہیں سطح سمندر میں اضافے اور شدید موسمی حالات جیسے ماحولیاتی خطرات کے مقابل مزید غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔