افریقہ: خسرہ ویکسین سے 25 سال میں 2 کروڑ جانیں محفوظ، ڈبلیو ایچ او
خسرہ کی ویکسین کے ذریعے 25 سال کے دوران افریقہ میں 2 کروڑ جانیں بچائی گئیں جبکہ معمول کے حفاظتی ٹیکوں نے 50 کروڑ سے زیادہ بچوں کو تحفظ فراہم کیا۔ ان کامیابیوں کے باوجود براعظم اب بھی ان بیماریوں پر قابو پانے سے کوسوں دور ہے جن سے ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ نتائج افریقہ میں حفاظتی ٹیکوں کے اہداف سے متعلق پہلی جامع تجزیاتی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں جو بدھ کو عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) اور گاوی ویکسین اتحاد کی جانب سے جاری کی گئی۔
اس رپورٹ میں ایسی مختلف بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے پیش رفت اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے جن پر ویکسین کے ذریعے باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ رپورٹ 2030 تک بیماریوں سے بچاؤ کے ایجنڈے کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
خسرہ سے اموات میں نمایاں کمی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2000 سے 2024 کے دوران افریقہ میں حفاظتی ٹیکے لگوانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور 44 ممالک نے معمول کے پروگراموں میں خسرہ کی ویکسین کی دوسری خوراک بھی شامل کی۔
اس عرصہ میں ویکسین کی رسائی 5 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اضافی ویکسینیشن مہمات کے ذریعے 62 کروڑ 20 لاکھ افراد کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں خسرہ سے ہونے والی اموات نصف رہ گئیں اور مجموعی مریضوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی آئی۔ 2023 اور 2024 کے دوران 9 ممالک میں خسرہ کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی گئی جبکہ 2025 میں کابو ویڈ، ماریشس اور سیشیلز میں خسرہ اور روبیلا کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ تینوں اس سنگ میل کو عبور کرنے والے ذیلی صحارا افریقہ کے پہلے ممالک ہیں۔
غیر یکساں پیش رفت
'ڈبلیو ایچ او' کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی نے کہا ہے کہ افریقہ نے ایک نسل سے بھی کم عرصہ میں شاندار پیش رفت کی ہے، حفاظتی ٹیکے لگوانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں بچوں کی جانیں بچائی گئی ہیں۔ لیکن یہ پیش رفت یکساں نہیں اور اب سست پڑ رہی ہے جس کے باعث بہت سے بچے اب بھی غیر محفوظ ہیں اور اہم اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر زیادہ سے زیادہ بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکے لگانا ہوں گے۔
افریقہ میں اس وقت معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے 13 بیماریوں سے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ 2000 میں یہ تعداد صرف 8 تھی۔
اس دوران گردن توڑ بخار سے اموات میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی، ملیریا کی ویکسین 25 ممالک میں متعارف ہو چکی ہے اور 2024 میں ہی حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے کم از کم 19 لاکھ جانیں بچائی گئیں جن میں تقریباً 42 فیصد خسرہ کی ویکسین کی بدولت تھیں۔
سیاسی عزم کی ضرورت
2030 کا ایجنڈا ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کرتا ہے جہاں ہر فرد ویکسین کے مکمل فوائد حاصل کر سکے۔ اس کا ہدف یہ ہے کہ زندگی کے چار اہم مراحل پر 90 فیصد افراد کو حفاظتی ٹیکے میسر آئیں تاکہ ڈفتھیریا، کالی کھانسی، خسرہ اور ہیومن پیپیلوما وائرس(ایچ پی وی) سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حالیہ پیش رفت کے باوجود افریقہ اس ہدف کے حصول میں بہت پیچھے ہے کیونکہ تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکوں تک رسائی نہیں ہے۔'ڈبلیو ایچ او' اور گاوی نے زور دیا ہے کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور مضبوط سیاسی عزم ضروری ہے۔
گاوی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے، اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ جب حفاظتی ٹیکوں کو پالیسی کی سطح پر ترجیح دی جائے تو ویکسین کس قدر جانیں بچا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ مختلف علاقوں میں نتائج ایک جیسے نہیں ہیں ابھی بہت سا کام باقی ہے تاکہ دور دراز اور غریب علاقوں میں بھی ہر بچے کو حفاظتی ٹیکے میسر آئیں۔