انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان کا انسانی بحران عالمی برادری کی توجہ لینے میں ناکام، ٹام فلیچر

ایک خاتون اپنے بچوں کے لیے کھانا تیار کر رہی ہے ایک عارضی کیمپ میں تاویلا، شمالی دارفور، سوڈان میں، جہاں بے گھر خاندانوں نے جاری تنازعہ کی وجہ سے پناہ مانگی ہے۔
© UNICEF/Mohammed Jamal سوڈان میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

سوڈان کا انسانی بحران عالمی برادری کی توجہ لینے میں ناکام، ٹام فلیچر

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے اداروں نے سوڈان جنگ کے فریقین سے لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران درپیش ہے جبکہ عالمی برادری اس مسئلے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے سوڈان میں فوج اور اس کی مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین جاری لڑائی کے تین سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ اس خونی تنازع نے تقریباً تین کروڑ 40 لاکھ افراد یا ملکی آبادی کے 65 فیصد کو انسانی امداد کا محتاج بنا دیا ہے۔ 

سوڈان میں رواں سال 2 کروڑ افراد کی مدد کے لیے تین ارب ڈالر درکار ہیں لیکن تاحال یہ امدادی منصوبہ وسائل کی شدید قلت کا شکار ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ تشدد کو روکا جائے، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، خطرے میں گھری آبادی تک رسائی دی جائے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے حسب ضرورت مالی وسائل فراہم کیے جائیں

ٹام فلیچر نے یہ بات برلن میں کہی جہاں وہ سوڈان جنگ کے خاتمے سے متعلق آج شروع ہونے والے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سوڈان میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور شہریوں کے محفوظ انخلا کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے خصوصی ایلچی پیکا ہاویستو نے حالیہ دنوں کینیا میں سوڈانی گروہوں اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ وہ برلن کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔

نقل مکانی اور بھوک کا بحران

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، ملک میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جن میں سے 90 لاکھ ملک کے اندر ہی محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں اور 44 لاکھ افراد چاڈ، مصر، جنوبی سوڈان اور دیگر ممالک کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کی عہدیدار زوئے برینن نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اگرچہ کچھ عرصہ سے تقریباً 40 لاکھ افراد نے گھروں اور علاقوں میں واپسی کی ہے لیکن انہیں بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ 

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق، سوڈان کا بحران بدستور شدت اختیار کر رہا ہے اور اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے۔ ملک کے بعض حصوں میں دو سال سے قحط جیسے حالات ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے۔

ادارے میں شعبہ ہنگامی امدادی اقدامات کے ڈائریکٹر راس سمتھ کا کہنا ہے کہ لاکھوں سوڈانی روزانہ خوراک اور بنیادی عزت نفس کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ والدین خود بھوکا رہ کر بچوں کو کھلا رہے ہیں اور بچے بھی بھوک کا شکار ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات

راس سمتھ نے بتایا ہے کہ سوڈان کا بحران عالمی عدم استحکام اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث مزید بگڑ رہا ہے۔ ایران کی جنگ نے بحری تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے، جس سے خوراک، ایندھن اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ یہی وہ بنیادی اشیا ہیں جن پر سوڈان کا انحصار ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اوسطاً 24 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور دور دراز علاقوں میں یہ قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اس کا اثر تمام اشیائے خوردونوش پر پڑے گا اور مزید لوگ بھوک کا شکار ہوں گے۔

خواتین کے خلاف جنگ

صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ویمن) کے مطابق، سوڈان میں مسلح تنازع کے ساتھ ایک اور جنگ بھی جاری ہے جو خواتین کے خلاف ہے۔

ادارے میں مشرقی و جنوبی افریقہ کے امور کی ڈائریکٹر اینا موتاواتی نے کہا ہے کہ حقیقت میں یہ جنگ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بیشتر خواتین اور لڑکیوں سمیت ایک کروڑ 27 لاکھ افراد جنسی اور صنفی تشدد سے متعلق امداد کے محتاج ہیں جبکہ 2023 میں یہ تعداد 31 لاکھ تھی۔ قتل عام، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور جنسی تشدد اس جنگ کی نمایاں خصوصیت بن گئے ہیں۔ 

بچوں کے لیے تاریک ایام

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال(یونیسف) نے کہا ہے کہ سوڈان میں بچوں کی صورتحال ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک 4,300 سے زیادہ بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور ان کے حقوق کی 5,700 سے زیادہ سنگین پامالیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہو رہا ہے بچوں کی 80 فیصدہلاکتوں اور ان کے زخمی ہونے کا سبب ڈرون حملے ہیں۔ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں ہی 245 ایسے واقعات سامنے آئے جو 2025 کے اسی عرصہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

شہری تنصیبات پر حملے

 ملک میں متحارب فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے زیر انتظام علاقوں میں ڈرون کے ذریعے گھروں، بازاروں، سڑکوں، سکولوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں بچے بھی ہلاک و زخم ہو رہے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے تین ماہ میں تقریباً 700 شہری ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے مطابق، یہ حملے نہ صرف شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر رہے ہیں اور ان کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ آ رہی ہے۔