یمن کے عوام غیر یقینی صورتحال کے یرغمال، یو این خصوصی نمائندہ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ یمن کو اس تنازع کا شکار ہونے سے بچانا اور ملک میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے سیاسی بات چیت اور شہریوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے۔
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ نے کونسل کو بتایا ہے کہ ایک دہائی سے جاری جنگ کے بعد یمن کے لوگوں میں مزید تکالیف برداشت کرنے کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔
انہوں نے ملک کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمن کے عوام طویل عرصہ سے ناکافی سہولیات، اجرتوں میں تاخیر اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب انہیں خطے میں جاری تنازع کے باعث ایندھن اور خوراک کی مزید بڑھتی قیمتوں کا بھی سامنا ہے۔
نئے دباؤ ملکی برآمدات میں رکاوٹوں، مرکزی بینک کی تقسیم اور معاشی زندگی کے بطور ہتھیار استعمال جیسے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں جس کی قیمت شہریوں کو چکانا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ 2022 کی جنگ بندی کے بعد امن برقرار ہے لیکن اس صورتحال کو یقینی یا مستقل نہیں سمجھا جا سکتا۔ یمن کے مستقبل کو اس غیر یقینی صورتحال کا یرغمال نہیں بننا چاہیے اور آگے بڑھنے کے لیے ایک جامع سیاسی عمل ضروری ہے۔
غذائی قلت اور طبی مسائل
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) میں بحرانوں کے خلاف اقدامات کے شعبہ کی ڈائریکٹر ایڈیم ووسورنو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یمن میں 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ انسانی بحران سب سے زیادہ کمزور طبقے کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
ملک میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں اور دو تہائی خاندان ایک وقت کے فاقے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں خواتین اور بچے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے 20 لاکھ سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین غذائی کمی کے باعث جان لیوا طبی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایک کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ آبادی کو صحت کی سہولیات میسر نہیں جبکہ ایسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جن پر ویکسین کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔
یو این اہلکاروں کی حراست
اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے 73 اہلکار ملک کے بڑے حصے پر قابض حوثیوں (انصار اللہ) کی حراست میں ہیں۔ امدادی سامان ضبط کیا جا چکا ہے، رسائی محدود ہے اور پورے خطے میں امداد کی فراہمی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا یمن کے لیے امدادی وسائل اور بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک دہائی تک جنگ کے نتیجے میں ملکی عوام کے لیے انسانی امداد ہی واحد اور معمولی سا سہارا رہ ہے اور اب اسے بھی خطرات لاحق ہیں۔