مشرق وسطیٰ کے بحران کا کوئی عسکری حل نہیں، انتونیو گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی بحالی کے لیے اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے متعدد حصوں میں انسانی اور قانونی ذمہ داریوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جس سے افراتفری، تکلیف اور تباہی جنم لے رہی ہے۔
اس بحران نے پورے خطے میں جان و مال کا شدید نقصان کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے جو ایندھن، کھاد اور گیس کی عالمی تجارت کا نہایت اہم راستہ ہے اور ہزاروں ملاح سمندر میں موجود جہازوں پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اس ہفتے ان کے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے دورے کا مرکزی موضوع ہوگا۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی امید بھی ہے۔
عالمی برادری کے لیے پیغام
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ انصاف کو غیر جانبدار ہونا چاہیے لیکن آج بہت سے لوگ خود انصاف سے ہی نظریں چرا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ یہ وقت قانون سے پیچھے ہٹنے کا نہیں بلکہ اسے مضبوطی سے قائم رکھنے کا ہے۔
عالمی عدالت اس ہفتے اپنی 80ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کا بنیادی عدالتی ادارہ اور بین الاقوامی قانونی نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ان کا یہ دورہ صرف ایک سالگرہ منانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک واضح پیغام دینے کے لیے ہے کہ:
- اقوام متحدہ امن، انصاف، خودمختاری اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے قائم اداروں اور اصولوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
- بین الاقوامی قانون تمام ممالک پر بلا امتیاز لاگو ہوتا ہے اور اس کی پاسداری اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے۔
- ایسی دنیا میں بین الاقوامی قانون کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جہاں تقسیم اور طاقت کی کشمکش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تحمل اور ذمہ داری کی اپیل
سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد کے بغیر عدم استحکام پھیلتا ہے، بداعتمادی بڑھتی ہے اور تنازعات بے قابو ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اور امن معاہدوں کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں اور سیاسی عزم ضروری ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سنجیدہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونا چاہئیں اور تمام فریقین کو بین الاقوامی بحری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ تحمل اور ذمہ داری، کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ نئے سرے سے وابستگی کا وقت ہے۔