غلامانہ تجارت کی تلافی نسل پرستی کے خاتمہ میں ضروری، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ نسل پرستی کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے نوآبادیات، غلامی اور افریقی النسل افراد کی غلامانہ تجارت جیسے جرم پر ازالے کی فراہمی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام 'افریقی النسل افراد کے مستقل فورم' کے پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں نسلی انصاف اور مساوات کے میدان میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اس میں امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کا نفاذ، انسانی حقوق اور مساوات کے لیے آزاد اداروں کا قیام اور ازالے کی جانب اقدامات شامل ہیں۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں افریقی النسل افراد کو اب بھی عدم مساوات اور خراب حالات کا سامنا ہے اور بعض جگہوں پر یہ پیش رفت واپس ہو رہی ہے۔
متعصبانہ مصنوعی ذہانت
ہائی کمشنر نے کہا کہ افریقی النسل افراد کو روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں جیسا کہ دفاتر، ہسپتالوں، درسگاہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ہر خطے میں افریقی النسل افراد میں غربت کی شرح زیادہ ہے اور خاص طور پر خواتین، نوجوان اور ایسے افراد دوسروں کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں جو پہلے ہی کئی طرح کی تفریق کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نسل پرستی اور غیر انسانی رویے اب بھی سرکاری اداروں، معاشروں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود ہیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت تعصبات کو زندہ کر رہی ہیں اور انہیں بڑھاوا دے رہی ہے جبکہ یہ تمام حالات دراصل نوآبادیاتی دور انسانی غلامی کی براہ راست میراث ہیں۔
انصاف اور مساوات کے لیے اقدامات
وولکر ترک نے اس صورتحال کا ازالہ کرنے کے لیے رکن ممالک کو تین اہم اقدامات تجویز کرتے ہوئے کہا کہ:
- ایسے قوانین، پالیسیاں اور عملی اقدامات اپنائے اور نافذ کیے جائیں جو زیادہ محفوظ، منصفانہ اور جامع معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں۔
- افریقی النسل نوجوانوں اور سول سوسائٹی کو فیصلہ سازی کے ہر مرحلے میں شامل کیا جائے۔
- ازالے پر مبنی انصاف کی جانب پیش رفت کو جاری رکھا جانا چاہیے۔
اس حوالے سے انہوں نے جنرل اسمبلی میں 25 مارچ کو منظور کی جانے والی قرارداد کا خیرمقدم کیا جس میں بحر اوقیانوس کے آر پار غلاموں کی تجارت کو انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم قرار دیا گیا۔
ہائی کمشنر نے بعض حکومتوں اور اداروں کی جانب سے ماضی میں افریقی النسل لوگوں کو غلام بنانے پر کی گئی معذرت اور ثقافتی نوادرات کی واپسی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے خبردار کیا کہ ازالے پر مبنی انصاف کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز موثر اور انسانی حقوق کی بنیاد پر ہو۔
مستقبل کی راہ
امسال افریقی النسل افراد کے فورم کو ان لوگوں کے انسانی حقوق آگے بڑھانے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس فورم میں درج ذیل موضوعات پر بات چیت ہو گی:
- ثقافتی نوادرات کی واپسی کے ذریعے ازالے پر مبنی انصاف
- افریقی النسل نوجوانوں کے انسانی حقوق کی صورتحال
ڈربن اعلامیہ اور لائحہ عمل کا جائزہ، جو نسل پرستی، نسلی تفریق، غیر ملکیوں سے نفرت اور عدم برداشت کے خلاف عالمی سطح پر سب سے جامع فریم ورک سمجھا جاتا ہے۔ فورم میں اعلامیہ نافذ ہونے کے بعد 25 برس کی پیش رفت پر بھی غوروخوض ہو گا۔
یہ تمام کوششیں اس امید کے ساتھ کی جا رہی ہیں کہ دنیا بھر میں افریقی النسل افراد کے لیے مزید منصفانہ اور مساوی مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔