مشرق وسطیٰ کشیدگی سے ایشیا الکاہل ممالک کو 299 ارب ڈالر نقصان کا خطرہ
ایشیا اور الکاہل کے خطے میں برسوں کی محنت سے ہونے والی انسانی ترقی مشرق وسطیٰ میں حالیہ عسکری کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار ہے اور عارضی جنگ بندی کے باوجود اس تنازع کے اثرات ملکی معیشتوں اور گھریلو زندگی کو منفی طور سے متاثر کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق توانائی، تجارت اور محنت کی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی آمدنی، کھپت، روزگار اور سماجی تحفظ کے نظام پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ کم آمدنی والے گھرانے، معیشت کے غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے والے لوگ، مہاجرین اور چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ خطرے میں ہیں جبکہ افرادی قوت میں خواتین سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں۔
اس رپورٹ میں 36 ممالک پر اس کشیدگی کے اثرات اور ان سے پیدا ہونے والی ضروریات کو واضح کیا گیا ہے جو انہیں معاشی تخمینوں کے ساتھ ملا کر خطے کی مجموعی صورت حال اور مختلف ممالک کے جوابی اقدامات کا احاطہ کرتی ہے۔
غربت میں اضافے کا خدشہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات سب سے بڑا اور ہنگامی توجہ کا متقاضی مسئلہ بن گئے ہیں۔ چونکہ 80 فیصد سے زیادہ خام تیل اور ایل این جی آبنائے ہرمز سے گزر کر ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں اس لیے قیمتوں میں اضافہ تیزی سے نقل و حمل، بجلی، خوراک اور کھاد تک منتقل ہو رہا ہے۔
ایشیا اور الکاہل میں تقریباً 88 لاکھ افراد کے غربت کی لکیر سے نیچے جانے کا خطرہ ہے۔ اسی طرح، معاشی پیداوار میں 97 ارب سے 299 ارب امریکی ڈالر تک کمی آ سکتی ہے جو خطے کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.3 سے 0.8 فیصد ہو گی۔
انسانی ترقی کا نقصان
ایران میں انسانی ترقی کے اشاریے میں کمی کا اندازہ ایک سے ڈیڑھ سال کی پیش رفت کے ضیاع کے برابر ہے۔ دیگر ممالک میں قلیل مدتی صورتحال کے تحت یہ نقصان چند ہفتوں سے لے کر چند ماہ تک کی ترقی کے ضیاع کے برابر ہوگا۔
اگر موجودہ حالات مزید برقرار رہے تو یہ نقصانات خاص طور پر ان معیشتوں کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں جو ترسیلات زر، درآمدی توانائی اور خوراک پر انحصار کرتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں یہ اثرات زیادہ شدید ہیں، جبکہ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں فی الوقت اس قدر نمایاں دکھائی نہیں دیتے۔
خطے کی حکومتوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں جن میں ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا، مخصوص شعبوں میں امدادی قیمتوں (سبسڈی) کی فراہمی، نقل و حمل پر پابندیاں اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کرنا شامل ہیں۔ چند ممالک میں توانائی بچانے کی مہمات چلائی جا رہی ہیں اور سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں عارضی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں تاکہ ایندھن کے استعمال اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
خود انحصاری کا موقع
اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور ایشیا و الکاہل کے لیے 'یو این ڈی پی' کی علاقائی ڈائریکٹر کنی وگناراجا نے کہا ہے کہ یہ جنگ ایشیا اور الکاہل کے خطے میں جو دباؤ پیدا کر رہی ہے وہ اب واضح دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے اثرات پالیسی سازی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گھروں تک پہنچ رہے ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن عالمی منڈیوں میں مسلسل بے یقینی کے باعث خطے کی حکومتیں قیمتیں مستحکم رکھنے، کمزور طبقات کی مدد کرنے اور بنیادی خدمات برقرار رکھنے کے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ، خطے کے ممالک کے لیے یہ سماجی تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے، مقامی و علاقائی پیداوار کو مضبوط کرنے اور توانائی و خوراک کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کا موقع بھی ہے۔
وگناراجا کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی معاشی پالیسیاں تشکیل دینے کا معاملہ نہیں بلکہ رکن ممالک کا امتحان ہے کہ وہ کس حد تک دور اندیشی سے کام لے کر تیزی سے خود کو تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ غیر یقینی اور غیر محفوظ دنیا میں انسانی ترقی اور سلامتی کے حصول کو برقرار رکھا جا سکے۔