ایران جنگ سے دنیا کے 162 ممالک میں غربت بڑھنے کا خطرہ، رپورٹ
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری کشیدگی کے باعث دنیا کے 162 ممالک میں کروڑوں افراد کے لیے غربت کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
'یو این ڈی پی' نے آج جاری کردہ اپنی نئی پالیسی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگرچہ اس کشیدگی کے اثرات زیادہ تر ان ممالک تک محدود ہیں جو براہ راست اس تنازع سے متاثر ہیں یا توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں لیکن ایسے غریب ممالک بھی شدید اور دیرپا نقصان اٹھا سکتے ہیں جو جغرافیائی طور پر اس لڑائی سے دور ہیں۔
ادارے نے 'مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی: عالمی ترقی کے لیے دھچکے اور پالیسی سے متعلق امکانات' کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جب یہ بحران چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے تو اس کے اثرات ہنگامی مرحلے سے نکل کر مسلسل نوعیت کے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مرحلہ جس قدر طول پکڑے گا نازک ممالک میں غربت میں تیزی سے اضافے کا خدشہ بھی اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا۔ بدترین صورتحال میں مزید 3 کروڑ 20 لاکھ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ خلیجی خطہ، ایشیا، ذیلی صحارا افریقہ اور جزائر پر مشتمل چھوٹے ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
ناقابل قبول حالات
'یو این ڈی پی' کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو کا کہنا ہے، یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا دھچکا صرف متاثرہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان ممالک پر پڑتا ہے جن کے پاس توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے مالی گنجائش نہیں ہے۔
اس بحران کے باعث ان ممالک کو ایسے ناممکن فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں جہاں انہیں آج قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور کل کے لیے صحت، تعلیم اور روزگار پر خرچ کرنے کے درمیان انتخاب کرنا ہے۔ یہ صورتحال ناقابل قبول ہے اور بروقت پالیسی اقدامات کی بدولت اس سے بچا جا سکتا ہے۔
'یو این ڈی پی' کی سفارشات
'یو این ڈی پی' نے مختلف ممکنہ حالات کے پیش نظر درج ذیل پالیسی اقدامات بھی تجویز کیے ہیں جن کے ذریعے ممالک اس بحران کے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
پالیسی ساز غریب اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے عارضی اور مخصوص مقدار میں نقد امداد فراہم کریں جو بدترین حالات کے مقابل ابتدائی دفاعی اقدام کے طور پر کام کرے گی۔ مختلف حالات میں اس مقصد کے لیے تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر درکار ہو سکتے ہیں۔
بجلی یا کھانا پکانے کی گیس کا استعمال محدود کرنے کے لیے عارضی امدادی قیمتیں یا واؤچر فراہم کیے جائیں۔ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں توانائی پر دی جانے والی امدادی قیمت عام طور پر امیر طبقے کو فائدہ دیتی ہے جبکہ غریب طبقہ نظر انداز ہو جاتا ہے اور اس کی طویل مدتی طور پر فراہمی بھی ممکن نہیں ہوتی۔