مشرق وسطیٰ: ’پاکستان امن مذاکرات‘ بے نتیجہ رہنے سے صورتحال پھر کشیدہ
امریکہ اور ایران کے مابین ہفتے کو پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی معاہدہ طے نہ پانے کے باعث مشرق وسطیٰ میں غیریقینی صورتحال اور کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ میں انسانی نقصان بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق، لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملوں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
آبنائے ہرمز تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے اقدامات بحری سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
فروری کے آخر سے جاری کشیدگی کے بعد ایران نے آبنائے پر کنٹرول مضبوط کرنے کا عندیہ دیا ہے اور مبینہ طور پر جہازرانی کو نشانہ بنانے یا محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
جہازرانی کو خطرہ
اس کے نتیجے میں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ بہت سے جہاز سکیورٹی اور انشورنس خدشات کے باعث اپنے سفر موخر کر رہے ہیں یا متبادل راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔
دونوں فریقین کی جانب سے دنیا کی اس اہم بحری گزرگاہ تک رسائی پر اثرانداز ہونے والے اقدامات کے باعث خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور بحری ٹریفک کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔