غزہ: جنگ بندی کے چھ ماہ بعد بھی فلسطینی غیر محفوظ، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے چھ ماہ بعد بھی غزہ کے فلسطینی ہر جگہ اسرائیلی حملوں سے غیرمحفوظ ہیں۔ مسلسل ہلاکتوں کا سلسلہ فلسطینی جانوں کے حوالے سے بے اعتنائی کا اظہار اور ایسے جرائم پر عدم احتساب کا نتیجہ ہے۔
ہائی کمشنر کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اب تک 738 فلسطینی اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 10 یوم کے دوران درجنوں فلسطینی اپنے گھروں کے ملبے پر، پناہ گاہوں میں، خیموں میں، سڑکوں پر، گاڑیوں، ایک طبی مرکز اور کمرہ جماعت میں بھی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین، بچے، معذور افراد، ایک امدادی کارکن اور ایک صحافی بھی شامل تھے۔
9 اپریل کو تیسری جماعت کی ایک طالبہ اس وقت ہلاک ہو گئی جب شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیہ میں عارضی سکول کے طور پر استعمال ہونے والے ایک خیمے کو اسرائیلی فوج نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ 8 اپریل کواسرائیلی فوج نے ایک ڈرون کے ذریعے غزہ سٹی میں الجزیرہ کے صحافی محمد وشاح کو نشانہ بنا کر قتل کیا۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ وشاح حماس کے رکن تھے۔
294 صحافیوں کی ہلاکت
دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل اس سے پہلے بھی غزہ میں متعدد صحافیوں کی ہلاکت کے واقعات میں یہی موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ان کا تعلق حماس سے تھا جبکہ ایسے دعووں کے حق میں کوئی مصدقہ شدہ شواہد موجود نہیں ہوتے۔
ادارے کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے بعد محمد وشاح 294 ویں فلسطینی صحافی ہیں جو اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیل نے غیرملکی صحافیوں کو غزہ تک آزادانہ رسائی دینے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
'او ایچ سی ایچ آر' نے بتایا ہے کہ 6 اپریل کو غزہ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے عملے کو لے جانے والی گاڑی پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔ اپریل کے آغاز تک غزہ میں ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی تعداد 589 تک پہنچ چکی تھی جن میں اقوام متحدہ کے 397 اہلکار بھی شامل ہیں۔
جنگی جرائم اور عدم احتساب
وولکر ترک نے کہا ہے کہ غزہ میں صحافیوں اور امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں کی تعداد غیرمعمولی ہے جس سے عام شہریوں پر مرتب ہونے والے اثرات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ فلسطینیوں کی ہلاک کے واقعات تقریباً روزانہ سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے جو براہ راست لڑائی میں شامل نہ ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈھائی سال سے بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی پر احتساب کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ہزاروں فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد عالمی برادری کو محض بیانات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے کہ اسرائیل کی جانب سے حقوق کی پامالی کو روکا جا سکے، اس کے تمام ذمہ داروں کا محاسبہ ہو اور فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور علاقوں کی دوبارہ تعمیر کا موقع مل سکے۔