انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا بیس سالہ ریکارڈ بوجھ، رپورٹ

ملاوی میں ایک کمیونٹی ایونٹ کے دوران روایتی لباس میں خواتین درخت لگانے کے لیے مٹی کھودنے کے لیے ہونٹوں کا استعمال کرتی ہیں۔
A group of women plant a tree in Malawi. ملاوی میں خواتین کسان کام میں مصروف ہیں۔

ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا بیس سالہ ریکارڈ بوجھ، رپورٹ

معاشی ترقی

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی تقسیم، شدت اختیار کرتے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور تنازعات گزشتہ کئی دہائیوں کی ترقیاتی کامیابیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

مالیات برائے پائیدار ترقی کے موضوع پر اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) میں 6 فیصد اور اس کے اگلے سال مزید 23 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ قرضوں کی ادائیگی کے ضمن میں ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والا بوجھ گزشتہ 20 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ان حالات میں بین الاقوامی طور پر طے شدہ ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

Tweet URL

اس رپورٹ میں گزشتہ سال سپین میں 'مالیات برائے ترقی کانفرنس' کے موقع پر کیے جانے والے 'سیویل عہد' پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے جس کا مقصد جاری دہائی کے اختتام تک پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے لیے سالانہ 4 کھرب ڈالر کا اہتمام کرنا ہے۔

سرمایہ کاری کی ضرورت

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے رپورٹ کے اجرا سے قبل کہا کہ 'سیویل عہد' پر عملدرآمد بہترین موقع ہے کہ عالمی برادری کے تعاون کے عزم کو ثابت کیا جائے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

معاشی و سماجی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل لی جنہوا کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئندہ چار برس میں پائیدار ترقی کے اہداف کو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ضروری ہے مگر افسوسناک طور سے مالیاتی خلا بڑھتا جا رہا ہے۔ ترقیاتی امداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً غریب اور کمزور ملک ماحولیاتی تباہی، موسمیاتی اثرات، بلند شرح سود اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کا نقصان

لی جنہوا نے کہا کہ کثیرالفریقی نظام بھی خطرے میں ہے۔ طاقتور ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئے اتحاد بنا رہے ہیں جو اکثر غریب ممالک کے نقصان پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس سے عالمگیر تعاون کی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

2025 میں کم ترین ترقی یافتہ ممالک کی برآمدات پر اوسط محصولات 9 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد ہو گئے جبکہ چین کے علاوہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو گئی جو کہ آٹھ گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے پہلے سے کمزور عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور ترقی پذیر ممالک توانائی، خوراک، تجارت اور قرضوں کی پائیداری کے معاملے میں اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

مثبت پیش رفت

رپورٹ میں مثبت پیش ہائے رفت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ 2024 میں قابل تجدید توانائی پر 2.2 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی جو معدنی ایندھن پر ہونے والی سرمایہ کاری سے دوگنا زیادہ ہے۔ اسی طرح، گزشتہ 20 برس میں ترقی پذیر ممالک کے درمیان باہمی تجارت چار گنا بڑھ چکی ہے۔

لی جنہوا نے کہا ہے کہ 'سیویل عہد' پر عملدرآمد ہی پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے مالی خلا کو پر کرنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ دنیا اب رکن ممالک کے اجتماعی سیاسی عزم کی منتظر ہے جنہیں محض وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔