انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران جنگ بندی سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید

ہرمز اسٹریٹ کی ایک سیٹلائٹ تصویر ، جو ایک اہم شپنگ روٹ ہے جو متحدہ عرب امارات اور ایران کو الگ کرتی ہے ، جس میں خلیج فارس اور خلیج عمان کے پانی کے جسم نظر آتے ہیں۔
© NASA ایران اور متحدہ عرب امارت کے درمیان واقع آبنائے ہرمز ایک اہم تجارتی رہگزر ہے۔

ایران جنگ بندی سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید

از ڈینیئل ڈکنسن
امن اور سلامتی

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی غیر مستحکم جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔ یہ ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے اور دنیا کے تیل و گیس کی 20 فیصد تجارت یہیں سے ہوتی ہے۔

ایران جنگ کے دوران یہ آبنائے کشیدگی کا مرکز رہی ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے اور خطے کے استحکام پر بھی منفی اثر پڑا۔ تاحال خلیج فارس کے حالات غیریقینی ہیں تاہم امریکہ اور ایران جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے ان دنوں پاکستان میں مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

یہ آبنائے ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے۔ اس کے ذریعے سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک تیل اور گیس برآمد کرتے ہیں۔

اس آبنائے میں معمولی رکاوٹ بھی:

  • توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔
  • ایندھن کے عالمی تجارتی سلسلے کو متاثر کر سکتی ہے، اور 
  • جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

جہاز رانی کی موجودہ صورتحال

اس سمندری گزرگاہ کی کم ترین چوڑائی صرف 39 کلومیٹر (21 ناٹیکل میل) ہے اور فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہاں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او)کے مطابق، تنازع سے پہلے یہاں سے روزانہ تقریباً 150 جہاز گزرتے تھے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ تعداد کم ہو کر صرف 4 یا 5 جہاز روزانہ رہ گئی اور یہ ایسے ممالک کے جہاز تھے جنہیں ایران اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود یہ گزرگاہ مکمل طور پر کب اور کیسے کھلے گی۔

نیو اورلینز کے قریب مسیسیپی دریا پر ایک بڑا کارگو جہاز چل رہا ہے ، جس کے اوپر ایک ابر آلود نیلا آسمان ہے۔
UN News/Daniel Dickinson

بحری جہاز کتنے غیر محفوظ ہیں؟

'آئی ایم او'کے مطابق، اس وقت تقریباً 2000 جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے لیے آبنائے سے گزرنا ممکن نہیں رہا۔ ان میں میں تیل اور گیس بردار ٹینکر، مال بردار جہاز اور چھ سیاحتی کروز لائنر شامل ہیں۔ ان جہازوں پر تقریباً 20 ہزار ملاح موجود ہیں۔

ادارے کے مطابق، اب تک آبنائے میں بحری جہازوں پر 21 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 10 ملاح ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

'آئی ایم او' میں سمندری تحفظ کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈیمین شوالے کے مطابق، جنگ بندی ان ملاحوں کے لیے خوش آئند خبر ہے جو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے کشیدہ اور غیر یقینی حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے جہازوں پر موجود ہیں۔

ادارہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ممکن بنائی جا سکے۔ شوالے کے مطابق، 'آئی ایم او' کی اولین ترجیح جہاز رانی کو تحفظ دینا ہے تاکہ ملاحوں کا انخلا یقینی بنایا جا سکے۔ 

بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

سمندری سرگرمیوں کے لیے قانونی فریم ورک اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانون سمندر (یو این سی ایل او ایس) کا حصہ ہے جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • جہازوں کو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے گزرنے کا حق حاصل ہے۔
  • ساحلی ممالک جہاز رانی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔
  • ہر آبنائے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہنی چاہیے۔

اگرچہ اس کنونشن کے اصول عمومی بین الاقوامی قانون کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم ایران اس کا فریق نہیں ہے۔

ایک بحری جہاز کے ڈیک پر نیلے رنگ کے جمپ سوٹ اور سفید سخت ٹوپیاں پہنے دو بحری جہاز، پس منظر میں سمندر کے ساتھ ریلنگ کے قریب۔
© IMO

جہاز رانی کیسے بحال ہو گی؟

عالمی سطح پر یہ خواہش موجود ہے کہ اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جائے لیکن ماہرین کے مطابق جہازوں کے مالکان کو صورتحال کا بغور جائزہ لینا ہو گا۔ معمول کی تجارت کی بحالی کا انحصار سمندری سلامتی پر ہو گا۔

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار محفوظ اور موثر جہاز رانی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جہاز رانی کی بحالی متعین سمندری راستوں کے ذریعے متوقع ہے جنہیں 'ٹریفک سیپریشن سکیم' کہا جاتا ہے۔ یہ نظام 1968 میں ایران اور عمان کی تجویز پر متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد:

  • تصادم کے خطرات کو کم کرنا۔
  • سمندر میں سلامتی بہتر بنانا۔
  • کشیدہ حالات میں بھی منظم آمد و رفت برقرار رکھنا ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں آبنائے ہرمز سے جو چند جہاز گزرے ہیں انہوں نے ایرانی ساحل کے قریب شمالی راستہ اختیار کیا تاکہ ان کی نگرانی کی جا سکے۔

آئندہ کیا ہو گا؟

آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے، سفارتی کوششیں کامیاب ہوں، سمندری ہم آہنگی قائم رہے اور بین الاقوامی قوانین کا مکمل احترام کیا جائے۔