انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گزشتہ تین سالوں میں 1,000 سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک

ٹام فلیچر، معاون سیکرٹری جنرل برائے انسانی حقوق کے امور اور ہنگامی امدادی امداد کے کوآرڈینیٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو انسانی حقوق کے عملے کی حفاظت اور تحفظ سے متعلق بیان دے رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

گزشتہ تین سالوں میں 1,000 سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک

انسانی امداد

عالمی ریڈ کراس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ گزشتہ سال 21 ممالک میں کم از کم 326 امدادی کارکن اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے جبکہ تین برس میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد کم از کم 1,010 ہو گئی ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہلاکتوں میں 560 سے زیادہ غزہ اور مغربی کنارے میں، 130 سوڈان، 60 جنوبی سوڈان، 25 یوکرین اور 25 جمہوریہ کانگو میں ہوئیں۔ یہ کوئی حادثاتی اضافہ نہیں بلکہ تحفظ کے نظام کا انہدام ہے۔ یہ لوگ مصیبت زدہ آبادیوں کو خوراک، پانی، پناہ اور ادویات فراہم کرتے ہوئے مارے گئے جن میں بعض کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ واضح شناخت کے ساتھ محو سفر تھے۔

Tweet URL

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ امدادی کارکن ہی ہلاک نہیں ہو رہے بلکہ امدادی سرگرمیوں کو بھی محدود، سزاوار اور غیر معتبر بنایا جا رہا ہے۔ امداد فراہم کرنے والوں سے کہا جا رہا ہے کہ کہاں نہ جائیں اور کس کی مدد نہ کی جائے۔ انہیں اپنے کام کی وجہ سے ہراساں یا گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں جھوٹ پھیلائے جاتے ہیں جن کے سنگین نتائج بھی ہوتے ہیں۔

لاقانونیت اور عدم احتساب

ٹام فلیچر نے کہا کہ سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد میں امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا لیکن وہ اب بھی مارے جا رہے ہیں۔ یہ قرارداد تمام ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق امدادی کارکنوں اور متعلقہ عملے کا احترام اور تحفظ کریں۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ نے 14 امدادی کارکنوں کے اغوا، 145 کی گرفتاریوں اور 441 کارکنوں کے خلاف ہراسانی اور دھمکیوں کے واقعات رپورٹ کیے۔ سلامتی کے امور پر اقوام متحدہ کے سربراہ جائلز میشوڈ کے مطابق، اسی عرصہ میں اقوام متحدہ کی عمارتوں پر 62 اور گاڑیوں پر 84 حملے بھی ہوئے۔ ایسے مجرموں کو شاذ و نادر ہی جوابدہ ٹھہرایا جاتا ہے نہ تو ان کے نام سامنے لائے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھی ایسے بچوں کی مدد کرتے ہوئے مارے گئے جو جنگ کے عذاب میں پھنسے ہوئے تھے، امدادی کارکن ویکسینیشن مہمات چلاتے ہوئے اور لاکھوں ضرورت مند لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے قافلوں کی نگرانی کرتے ہوئے ہلاک کر دیے گئے۔ امدادی نظام کے تحفظ کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔

انسانیت کا زوال

عالمی ریڈ کراس کی نمائندہایلیس موسکینی نے کہا کہ جنگوں میں متحارب انسانیت کھونے لگے ہیں۔ امدادی کارکنوں پر ہونے والا ہر حملہ دوسروں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ان کی زندگیاں بے وقعت ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ دانستہ طور پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کی مہمات خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں جن کا مقصد امدادی تنظیموں پر اعتماد کو ختم کرنا اور ان کے کارکنوں کو جائز ہدف کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ سلسلہ اب مزید جاری نہیں رہ سکتا۔