لبنان: اسرائیلی بمباری میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ
اقوام متحدہ نے لبنان بھر میں اسرائیلی فوج کے تازہ ترین فضائی حملوں کی سخت مذمت کی ہے جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور تباہی کی اطلاعات ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی تباہ کن کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا ہے۔
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کارجینین ہینز پلاشرٹ نے کہا ہے کہ بدھ کو اسرائیلی حملوں کی لہر اس وقت آئی جب تشدد اور تباہی کے خاتمے کی امیدیں بڑھ رہی تھیں۔ یہ سلسلہ جاری نہیں رہنا چاہیے۔ کوئی فریق گولہ باری کے ذریعے فتح حاصل نہیں کر سکتا۔
ملک میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کی اعلیٰ عہدیدار بلیرٹا ایلیکو نے کہا ہے بیروت میں 40 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں سینکڑوں حملے کیے گئے ہیں جن میں ریڈ کراس نے 300 سے زیادہ افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمانفرحان حق نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مزید جانی نقصان کو روکنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کی طرف پیش رفت کی جائے کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔
ہلاکتیں اور نقل مکانی
لبنان میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار عمران رضا نے بتایا ہے کہ آج سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ آیا ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والی جنگ بندی لبنان پر بھی لاگو ہو گی یا نہیں۔ امید تھی کہ معاہدے کا اطلاق لبنان پر بھی ہو گا تاہم، زمینی حقائق نے جلد ہی مختلف رخ اختیار کر لیا۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دس منٹ کے اندر سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔ کئی گھنٹوں سے بیروت میں صرف ایمبولینس گاڑیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جو زندگیاں بچانے کے لیے مسلسل سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔
عمران رضا نے لبنانی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 1530 تک پہنچ گئی ہے جن میں 130 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 461 بچے زخمی ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔
بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی تعداد غیرمعمولی حد تک بڑھ کر تقریباً 12 لاکھ کے قریب ہو چکی ہے جو لبنان کی مجموعی آبادی کا لگ بھگ 20 فیصد ہے۔ ان میں ہزاروں افراد اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جبکہ لاکھوں اپنے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کے ہاں یا غیر رسمی بستیوں میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
طبی نظام پر شدید دباؤ
تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے(یو این ایف پی اے)کی نمائندہ لیلیٰ بکر نے بیروت سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لبنان میں بے گھر ہونے والوں میں تقریباً نصف تعداد خواتین اور لڑکیوں پر مشتمل ہے جن پر جنگ نے غیر معمولی اور ناقابل برداشت بوجھ ڈالا ہے۔
مائیں بمباری کے دوران اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے بھاگتی دکھائی دیتی ہیں جن کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حاملہ خواتین نے بتایا کہ وہ گولہ باری کے دوران علاج کی تلاش میں دربدر ہیں اور کسی سہولت اور رازداری کے بغیر پناہ گاہوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔
'یو این ایف پی اے' کے مطابق، بے گھر ہونے والوں میں تقریباً 13,500 حاملہ خواتین شامل ہیں۔ جنوبی لبنان میں ایسی 1,700 خواتین بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ آئندہ 30 روز میں 200 خواتین بچوں کو جنم دیں گی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے کہا ہے کہ لبنان میں ایمرجنسی، سرجری اور انتہائی نگہداشت کی خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اب تک صحت کے مراکز پر 106 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔