یو این چیف کے خصوصی ایلچی دیرپا امن کے لیے ایران پہنچ گئے
مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے ژاں آرنو خطے کے دورے میں آج ایران پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد حالیہ جنگ کے جامع اور دیرپا حل کے لیے کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
ژاں آرنو نے پاکستان اور دیگر شراکت داروں کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے، خصوصاً عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے جس سے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ژاں آرنو ایرانی حکام سے مشاورت کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر ان کا نقطہ نظر سنیں گے۔ سیکرٹری جنرل کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اس تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
نمائندے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ تمام رہنما اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق، جنگ کو ختم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کا راستہ اختیار کریں گے۔
جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین حالیہ جنگ بندی ان تمام شہریوں کی تکالیف میں کمی لائے گی جو کئی ہفتوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ نیک نیتی سے عمل کرتے ہوئے اس ابتدائی قدم کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل کریں۔
انہوں نے لبنان میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی تکالیف کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیرپا علاقائی امن کا حصول، انسانی حقوق کا تحفظ اور بین الاقوامی قانون کا احترام نہایت ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کر چکے ہیں۔
انہوں نے تنازع کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور جنگ بندی کی شرائط پر عمل کریں، تاکہ خطے میں دیرپا اور جامع امن کی راہ ہموار ہو سکے۔