انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بحیرہ روم: کشتیاں الٹنے سے 180 تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ

سمندر میں ایک ریسکیو آپریشن جہاں ایک ریسکیو کشتی مہاجرین سے بھری ایک بھری ہوئی ربڑ کی کشتی کے قریب پانی میں کسی شخص کو لائف بوی پھینکتی ہے۔
© SOS Méditerranée/Fabian Mondi بحیرہ روم میں ربڑ کی کشتیوں پر سوار تارکین وطن کی جانیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)۔

بحیرہ روم: کشتیاں الٹنے سے 180 تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ بحیرہ روم میں مہاجرین کی دو کشتیوں کو پیش آنے والے حالیہ حادثات میں 180 سے زیادہ لوگوں کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ اتوار کو تقریباً 120 افراد سے بھری کشتی لیبیا کے علاقے تاجورا سے روانہ ہونے کے بعد وسطی بحیرہ روم میں الٹ گئی جس کے نتیجے میں 80 سے زیادہ مہاجرین لاپتہ ہو گئے۔

اس سے قبل یکم اپریل کو اٹلی کے جنوبی ساحل لمپیدوسا کے قریب ایک کشتی سے 19 لاشیں برآمد ہوئیں تھیں۔ اندازہ ہے کہ یہ کشتی امدادی ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے تین روز تک سمندر میں بے یار و مددگار بھٹکتی رہی تھی۔

ان واقعات کے بعد رواں سال یورپ پہنچنے کی کوشش میں جان گنوانے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد تقریباً ایک ہزار تک جا پہنچی ہے۔

اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے 'آئی او ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ انسانی سمگلروں اور مافیا کے ہاتھوں کمزور لوگوں کے استحصال کو روکنے کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جانا چاہئیں اور مہاجرت کے محفوظ و قانونی راستوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی کو بھی ایسے جان لیوا سفر پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

اٹلی میں رواں سال کے دوران اب تک تقریباً 6,200 مہاجرین کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 2025 کے اسی عرصے میں آنے والے 9,400 افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔