خواتین کی عمریں طویل لیکن معیار زندگی ابتر کیوں؟
گزشتہ 25 برس کے دوران دنیا نے خواتین کے حقوقصحت خصوصاً ان کی جنسی و تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے تاہم پہلے سے زیادہ طویل عمر پانے کے باوجود آج خواتین بہتر صحت کے ساتھ زندگی نہیں گزار رہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، خواتین کی صحت کو خاطرخواہ حد تک سنجیدہ توجہ نہیں ملتی۔ ان کے امراض کی درست تشخیص نہیں ہو پاتی اور نہ ہی انہیں مناسب علاج ملتا ہے۔ غلط تشخیص سے لے کر گہرے طبی تعصبات تک، طبی نظام میں موجود خامیاں خواتین کی صحت، تحفظ اور معیار زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔
اگرچہ طبی سہولیات تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے لیکن اب بھی یہ حق سب کے لیے یقینی نہیں اور اس اہم ترین شعبے میں صنفی عدم مساوات برقرار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' کے مطابق، یہ ایک ایسے طبی نظام کی عکاسی ہے جو تاریخی طور پر خواتین کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا گیا۔
اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟
'یو این ویمن' کے مطابق، 2000 سے 2023 کے درمیان زچگی کے دوران اموات کی شرح میں 40 فیصد کمی آئی جو ہر ایک لاکھ زچگیوں میں 328 سے کم ہو کر 197 رہ گئی تھیں۔
2000 سے 2024 کے درمیان 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں حاملہ ہونے اور بچوں کو جنم دینے کی شرح 66.3 سے کم ہو کر 38.3 فی ہزار تک آ گئی تھی۔
ماہر طبی عملے کے زیر نگرانی زچگی کی شرح 60.9 فیصد سے بڑھ کر 86.6 فیصد ہو گئی جبکہ خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقے استعمال کرنے والی خواتین کی شرح 73.7 فیصد سے بڑھ کر 77.1 فیصد تک پہنچ گئی۔
تاہم یہ پیش رفت یکساں نہیں ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک میں نوعمر ماؤں کی تعداد 2000 میں 4.7 ملین تھی جو بڑھ کر 2024 میں 5.6 ملین ہو گئی۔
خواتین مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 3.8 سال زیادہ زندہ رہتی ہیں لیکن وہ اپنی زندگی کے بیشتر سال خراب صحت میں گزارتی ہیں۔ 2021 میں خواتین نے اوسطاً 10.9 سال خراب صحت میں گزارے جبکہ مردوں کے لیے یہ مدت 8.0 سال تھی۔ اس میں پٹھوں اور ہڈیوں کے مسائل، امراض مخصوصہ، مائیگرین اور ڈپریشن سمیت دائمی بیماریاں بھی شامل ہیں۔
چھ تلخ حقائق
- پرانے طبی آلات کا استعمال
پیلوک معائنے میں استعمال ہونے والا آلہ سپیکولم تقریباً وہی ہے جو 19ویں صدی میں استعمال ہوتا تھا۔ طب میں ترقی کے باوجود کئی تشخیصی آلات خواتین کے آرام، وقار اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید نہیں بنائے گئے۔ اگرچہ خواتین کی قیادت میں نئے ڈیزائن بھی سامنے آ رہے ہیں لیکن سرکاری نظام میں ان کا استعمال محدود ہے۔
- طویل عمر اور خراب صحت
خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہتی ہیں لیکن اپنی زندگی کا بڑا حصہ بیماری میں گزارتی ہیں۔ یہ شرح مردوں کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں طویل عرصہ تک درد، تھکن اور کئی طرح کے امراض کے علاج سے محرومی جیسے مسائل شامل ہیں۔
- تحقیق اور وسائل کی کمی
خواتین سے متعلق بیماریوں پر تحقیق اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل کی قلت ہے۔ مثال کے طور پر، خواتین کو متاثر کرنے والے پری مینسٹرل سنڈروم (پی ایم ایس) کو مردانہ بیماریوں جیسا کہ ایریکٹائل ڈس فنکشن کے مقابلے میں کم توجہ ملتی ہے۔
کئی دہائیوں سے اس عدم توازن نے خواتین کے درد کو نظر انداز کرنے یا معمول سمجھنے کا رجحان پیدا کیا ہے۔ اگرچہ اس معاملے میں اب پالیسیاں تبدیل ہونے لگی ہیں لیکن سماجی دباؤ برقرار ہے اور آگاہی کی کمی پائی جاتی ہے۔
- تشخیص میں تاخیر
اینڈومیٹریوسس دنیا بھر میں تقریباً ہر 10 میں سے ایک خاتون کو متاثر کرتا ہے مگر اس کی تشخیص میں 4 سے 12 سال لگ سکتے ہیں۔ یہ اس وسیع مسئلے کی عکاسی ہے جہاں خواتین کے درد کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
- تحقیق میں خواتین کی عدم شمولیت
1993 تک خواتین کو عموماً ادویات کے کلینیکل ٹرائلز میں شامل نہیں کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے اکثر بیماریوں کے علاج مردوں کے جسمانی نظام کو مدنظر رکھ کر وضع کیے گئے۔ اس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ خواتین کے لیے ادویات کے مضر اثرات زیادہ ہوتے ہیں اور ان کی علامات کو غلط سمجھا جا سکتا ہے۔
آج بھی نئی ٹیکنالوجی جیسا کہ مصنوعی ذہانت میں خواتین کی نمائندگی کم ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے کی قیادت میں بھی خواتین کی کمی ہے حالانکہ تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین کی قیادت بہتر نتائج میں مدد دیتی ہے۔
- امراض قلب سے بے توجہی
دل کی بیماری خواتین میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن اس کی عام علامات مردوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی ہیں۔ خواتین میں تھکن، متلی، سانس لینے میں دشواری، جبڑے یا کمر میں درد امراض قلب کے اشارے ہو سکتے ہیں جو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اوقات خواتین کو علاج مہیا کرنے کے بجائے گھر بھیج دیا جاتا ہے جس سے دل کی بیماری پیچیدہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مستقبل کی راہ
ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ایسے نظام ہائے صحت کی ضرورت ہے جو خواتین کی حقیقی ضروریات کو سمجھیں۔ اس میں مزید جامع تحقیق، بہتر معلومات کی موجودگی، جدید تشخیصی آلات اور خواتین کے تجربات کو سنجیدگی سے لینا شامل ہے۔
مزید برآں، طبی شعبے کی قیادت میں خواتین کی شمولیت بڑھانا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس سے علاج میں بہتری آتی ہے اور اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔