انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی پر بحرین کی قرارداد ویٹو

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیمبر کی ایک وسیع زاویہ کی تصویر جس میں رکن ممالک مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں، جس میں کئی مندوبین نے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
UN Photo/Manuel Elías مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک منظر۔

سلامتی کونسل: آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی پر بحرین کی قرارداد ویٹو

امن اور سلامتی

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد چین اور روس کی جانب سے ویٹو کے باعث منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بحرین کی جانب سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک (متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور سعودی عرب) اور اردن کی جانب سے15 رکنی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو 11 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ پاکستان اور کولمبیا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ 

قرارداد میں توثیق کی گئی تھی کہ تمام بحری جہازوں اور طیاروں کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے سمندری قانون(یو این سی ایل او ایس) کے تحت آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ گزرنے کا حق حاصل ہے۔ آبنائے ہرمز کی تجارتی گزرگاہوں کو استعمال کرنے والے ممالک باہمی تعاون کو فروغ دیں اور حالات کے مطابق دفاعی نوعیت کے اقدامات اختیار کریں تاکہ جہاز رانی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان میں بحری جہازوں کو حفاظتی سکواڈ فراہم کرنا اور کسی بھی ایسی کوشش کو روکنا بھی شامل ہے جو آبنائے کو بند کرنے یا عالمی جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے لیے کی جائے۔

بحری جہازوں کی حفاظت کا حق

قرارداد میں متعلقہ ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ آبنائے میں تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے تقاضوں کی مکمل پاسداری کریں اور دیگر ممالک کے جہازوں کے حقوق آمدورفت کا بھی احترام کریں تاکہ آبنائے سے بلا رکاوٹ گزر کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ قرارداد صرف آبنائے ہرمز کی صورت حال تک محدود ہے اور اس سے کوئی نیا بین الاقوامی قانون تشکیل نہیں پائے گا۔

قرارداد میں رکن ممالک کے اس حق کی توثیق کی گئی تھی کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے حملوں یا اشتعال انگیز اقدامات کے خلاف اپنے جہازوں کا دفاع کر سکتے ہیں جو جہاز رانی کے حقوق کو متاثر کرتے ہوں۔

ایران سے حملے روکنے کا مطالبہ

قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بحری جہازوں پر حملے بند کرے اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت روکے جانے کی تمام کوششیں ختم کرے۔ علاوہ ازیں، اس میں شہری تنصیبات، جیسا کہ پانی کی فراہمی، سمندری پانی صاف کرنے اور تیل و گیس کی تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ اگر جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیاں جاری رہیں تو مزید اقدامات (پابندیوں) پر غور کیا جا سکتا ہے۔

قرارداد میں آبنائے باب المندب تک خطرات کے پھیلاؤ کو بھی باعث تشویش قرار دیا گیا تھا، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 (2024) کی خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری سلامتی اور جہاز رانی کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔