یوم صحت: پاکستان میں طبی سائنس سے بچائی گئی لاکھوں زندگیوں کا جشن
آٹھ دہائیوں میں طبی سائنس کی بدولت پاکستان میں ہر سال لاکھوں زندگیوں کو تحفظ ملا ہے اور چیچک، تپ دق، پولیو، زیابیطس، سرطان، ہیپا ٹائٹس سی اور ملیریا جیسے مہلک امراض کی روک تھام اور علاج ممکن ہوا۔
عالمی یوم صحت پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈا پینگ نے کہا ہے کہ گزشتہ 50 برس میں ویکسین کی بدولتدنیا بھر میں 15 کروڑ سے زیادہ جانوں کو قابل انسداد بیماریوں سے بچانا ممکن ہوا ہے۔
پاکستان میں ہر سال 70 لاکھ بچوں اور تولیدی عمر کی 55 لاکھ خواتین تک حفاظتی ٹیکے پہنچائے جاتے ہیں۔ پولیو ویکسین کی بدولت 2 کروڑ سے زیادہ لوگ آج چلنے پھرنے کے قابل ہیں جو بصورت دیگر معذور ہو سکتے تھے جبکہ گزشتہ تین دہائیوں میں پولیو سے متاثرہ افراد کی تعداد میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔
غذائی قلت سے تحفظ
انہوں نے کہا کہ طبی سائنس کی بدولت تپ دق کا علاج دریافت ہوا جس سے گزشتہ 25 برس میں 8 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ جانیں بچائی گئیں جبکہ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 50 لاکھ سے زیادہ افراد کو اس بیماری کے خلاف علاج فراہم کیا گیا۔
'ڈبلیو ایچ او' ہر سال پاکستان کی وزارت صحت کے ساتھ مل کر 70 ہزار ایسے بچوں کو علاج فراہم کرتا ہے جو شدید غذائی قلت اور طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں اور بصورت دیگر موت کا شکار بن سکتے ہیں۔
انہوں نے تقریب میں شریک نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ امید ہے وہ سائنس کا ساتھ دیتے ہوئے ایک بہتر اور صحت مند دنیا کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ادارے کو پاکستان کے ساتھ اپنی آٹھ دہائیوں پر محیط شراکت پر فخر ہے۔
طبی سائنس پر اعتماد کی ضرورت
اس موقع پر پاکستان کی وزارت صحت کے سیکرٹری محمد اسلم غوری نے کہا کہ طبی سائنس پر اعتماد اور اس کی ہدایات پر عمل کرنا اختیاری معاملہ نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ 78 برس قبل پاکستان ان 61 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 'ڈبلیو ایچ او' کے آئین کی توثیق کر کے ایک صحت مند اور محفوظ دنیا کے قیام کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ آج 190 سے زیادہ ممالک اس ادارے کے رکن ہیں اور پاکستان کا عزم آج بھی ویسا ہی مضبوط ہے جیسا کہ پہلے دن تھا۔
انہوں نے کہا، گزشتہ 78 برس پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سائنس اور عالمی صحت کے تعاون نے لوگوں کی زندگی کو بے شمار طریقوں سے بہتر بنایا ہے۔ ایسے امراض جن کا آٹھ دہائیاں پہلے کوئی علاج موجود نہیں تھا آج قابل علاج ہو چکے ہیں۔ ملیریا، تپ دق اور ہیپاٹائٹس سی جیسے مہلک امراض کا علاج ممکن ہو گیا ہے جبکہ سرطان کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے اور اس کی بعض اقسام جیسا کہ رحم کے سرطان کی روک تھام بھی ممکن ہے۔
سیکریٹری صحت نے 'ون ہیلتھ' کے تصور کی اہمیت پر بھی زور دیا جس کا مقصد انسانوں، جانوروں اور ماحول کے درمیان صحت کا متوازن تعلق قائم رکھنا ہے کیونکہ سائنس سکھاتی ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔