انسانی کہانیاں عالمی تناظر

روانڈا نسل کشی: پورے کے پورے تتسی خاندان صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے

روانڈا میں 1994 میں تتیوں کے خلاف 1994 کی نسل کشی کے متاثرین کی تصاویر کی یادگار نمائش ، تاروں سے لٹکی ہوئی۔
United Nations روانڈا نسل کشی کے متاثرین کی تصاویر۔

روانڈا نسل کشی: پورے کے پورے تتسی خاندان صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے

انسانی حقوق

32 برس قبل، افریقی ملک روانڈا میں تتسی النسل لوگوں کے خلاف نسل کشی کی ہولناک مہم شروع کی گئی جس میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ آج اقوام متحدہ اس سانحے کی یاد میں تقریبات منعقد کر رہا ہے جس کا مقصد ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہونے دینا ہے۔

سرج گاسورے کا بچپن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ وہ کم عمر ہی تھے جب 1994 میں تتسی افراد کے خلاف نسل کشی کا آغاز ہوا اور اس دوران وہ کئی مرتبہ موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچے۔ ان کی والدہ کو قتل کر دیا گیا اور انہوں نے اپنی دادی کو بھی ایک چرچ میں ہونے والے گرنیڈ حملے میں ہلاک ہوتے دیکھا جہاں تتسی افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

Tweet URL

وہ ہوتو حملہ آوروں سے بچنے کے لیے کئی ہفتے بھاگتے رہے اور صرف نو سال کی عمر میں انہیں روانڈا پیٹریاٹک فرنٹ (آر پی ایف) کی فوج کے لیے لڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

بالآخر، جوانی میں وہ روانڈا چھوڑ کر امریکہ جا بسے جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر 'روانڈا چلڈرن' نامی غیر منفعی ادارہ قائم کیا جو ملک میں خطرات سے دوچار بچوں کو رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور تعلیم فراہم کرتا ہے۔

گاسورے ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہیں جو 1994 میں پیش آنے والے ان ہولناک واقعات سے تین دہائیوں بعد اپنی زندگیاں دوبارہ سنوار رہے ہیں۔ اس قتل عام میں مارے جانے والے بیشتر لوگ تتسی النسل تھے لیکن ان کے مخالف ہوتو نسل کے لوگوں اور دیگر کو بھی بڑی تعداد میں منظم طور سے قتل کیا گیا۔ 

سیکرٹری جنرل کا پیغام

سرج گاسورے اور قتل عام میں اپنے خاندان کے 25 افراد کو کھونے والے مارسل متسنداشیاکا آج اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب کے دوران اپنی داستان بیان کریں گے۔ یہ تقریب 7 اپریل کو اس قتل عام کی یاد میں منائے جانے والے عالمی دن کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی ہے۔

اس دن سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے متاثرین کے لیے دکھ اور ان کے لیے عقیدت کا اظہار کیا ہے جن میں پورے کے پورے خاندان بے دردی سے مٹا دیے گئے۔ اپنے پیغام میں، انہوں نے گاسورے جیسے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ثابت قدمی انسانی جذبے کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے یاد دلایا ہے کہ روانڈا میں قتل عام سے قبل عالمی برادری بروقت انتباہ پر توجہ دینے اور فوری طور پر جانیں بچانے میں ناکام رہی۔ ماضی کی ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا اور نفرت، اشتعال انگیز بیانات اور تشدد پر اکسانے کے رجحانات کو مسترد کر کے انسانوں کا تحفظ کرنا ہو گا۔

آج اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اس حوالے سے ہونے والی تقریب 1994 کی روانڈا نسل کشی سے متعلق آگاہی پروگرام کے تحت منعقد کی جاتی ہے جبکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا بھر میں ایسی تقریبات کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔ اس پروگرام کو 2005 میں جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا تاکہ روانڈا کے متاثرین کی یاد کو زندہ رکھا جائے اور تعلیم و آگاہی کے ذریعے مستقبل میں ایسے انسانیت سوز جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔