لبنان جنگ: انسانی بحران میں اضافہ، 11 لاکھ افراد دربدر
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ لبنان میں بے گھر ہونے والے مردوں، خواتین اور بچوں کی مصدقہ تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک بھر میں انسانی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
ادارے کے مطابق، ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ لوگ سکولوں سمیت قریباً 700 اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جن میں تقریباً ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔ بہت سے بے گھر افراد اپنے رشتہ داروں اور دیگر میزبان خاندانوں یا غیر رسمی بستیوں میں مقیم ہیں جہاں انہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
امدادی کے کارکنوں کے مطابق، اس بحران کی انسانی قیمت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ مارچ میں لبنان کے لیے طلب کیے گئے 308 ملین ڈالر کے امدادی وسائل میں سے اب تک 100 ملین ڈالر سے بھی کم رقم موصول ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے امدادی شراکت دار لبنانی حکومت کے ساتھ مل کر بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی صوبوں میں پانی کی فراہمی کے نظام اور مرکزی لائنیں متاثر ہونے کے باعث عالمی ادارہ اطفال (یونیسف)نے ملک بھر میں پانی کھینچنے اور صاف کرنے کی تقریباً 45 تنصیبات کو 2 لاکھ 80 ہزار لیٹر سے زیادہ ایندھن فراہم کیا اور ان کی مرمت اور دیکھ بھال میں بھی مدد دی۔
کشیدگی کے آغاز سے اب تک اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار 30 لاکھ سے زیادہ کھانے اور راشن کے 65 ہزار سے زیادہ پیکٹ تقسیم کر چکے ہیں۔ تاہم، سرکاری پناہ گاہوں سے باہر رہنے والے لوگ بنیادی امداد سے محروم ہیں جبکہ سلامتی کی خراب صورتحال امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے ایک مرتبہ پھر کشیدگی کو کم کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کے لیے اپیل کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ شہریوں، خصوصاً امدادی اور طبی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائے، امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے درکار وسائل فراہم کیے جائیں۔
جنوبی لبنان میں بڑھتی کشیدگی
ترجمان نے حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جس میں لبنانی دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں اقوام متحدہ کی امن فورس نے اپنے زیر نگرانی علاقوں میں راکٹ حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری، طیاروں کی بمباری اور زمینی جھڑپوں کی مسلسل اطلاعات دی ہیں جبکہ لبنانی علاقے میں اسرائیلی فوج اور سازوسامان کی موجودگی میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مغربی سیکٹر میں یاطر اور بنت جبیل جبکہ مشرقی سیکٹر میں قنطرہ کے علاقوں میں لڑائی شدید رہی۔ جمعہ کو عدیسیہ کے قریب اقوام متحدہ کی ایک عمارت پر دھماکہ ہوا جس میں تین امن کار زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک تھی۔ یہ تینوں انڈونیشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جمعہ کو یونیفیل کے سکیورٹی کیمرے تباہ کر دیے۔ یہ کیمرے ناقورہ میں فورس کے ہیڈکوارٹر کے باہر سڑک کی نگرانی اور امن فوجیوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اقوام متحدہ نے اس واقعے پر اسرائیلی فوج سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔