امریکی محاصرہ: کیوبا کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی اپیل
اقوام متحدہ نے کیوبا کے لیے فوری عالمی امداد کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کو سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے جس نے توانائی کی طویل قلت اور گزشتہ سال آنے والے سمندری طوفان میلیسا کی تباہ کاریوں کے باعث مزید شدت اختیار کر لی ہے۔
امریکہ کی جانب سے رواں سال جنوری کے آخر میں اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں کیوبا کو تیل کی فراہمی تقریباً بند ہو گئی ہے جس کے باعث ملک میں ضرورت کے ایندھن کی شدید کمی ہے۔
اگرچہ حالیہ دنوں محدود مقدار میں ایندھن، بشمول روس سے آنے والی ایک کھیپ کو ملک میں پہنچنے دیا گیا تاہم انسانی ضروریات اب بھی نہایت سنگین ہیں اور گزشتہ ماہ کے اختتام پر صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
کیوبا میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر فرانسسکو پیچون نے ملک کے لیے ایک نیا امدادی لائحہ عمل پیش کیا ہے جس کا مقصد آٹھ صوبوں میں 20 لاکھ افراد کی مدد کرنا ہے۔ اس میں سمندری طوفان کے بعد بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں بجلی کے نظام کی تعمیرومرمت پر خاص توجہ دی جانا ہے۔
توانائی کی قلت اور بحرانی حالات
گزشتہ تین ماہ سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ایندھن کی شدید کمی نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ اس بحران کے باعث ملک میں بجلی کا نظام گزشتہ ماہ تین مرتبہ مکمل طور پر بیٹھ گیا اور پورا ملک کئی روز تک اندھیرے میں ڈوبا رہا۔
اس بحران نے بنیادی سہولیات کو مفلوج کر دیا ہے۔ صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے جہاں 96 ہزار سے زیادہ آپریشن التوا کا شکار ہیں۔ ان میں 11 ہزار بچوں کے آپریشن بھی شامل ہیں۔ قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام بھی متاثر ہوا ہے جبکہ 10 لاکھ افراد پانی کی فراہمی کے لیے ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں جو ڈیزل کی کمی کے باعث محدود ہو چکی ہے۔
کمزور طبقات کا نقصان
فرانسسکو پیچون نے زور دیا ہے کہ اس بحران کا اثر سب پر یکساں نہیں بلکہ کمزور طبقات کہیں زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کیوبا لاطینی امریکہ کا سب سے زیادہ معمر آبادی والا ملک ہے جہاں تقریباً 3 لاکھ تنہا معمر افراد، ایک لاکھ سے زیادہ جسمانی معذور اور 32 ہزار حاملہ خواتین خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محدود مقدار میں ایندھن کی فراہمی کے باوجود انسانی مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں اور یہ صورتحال کئی دیگر بحرانوں کے ساتھ مل کر مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ نے پائیدار توانائی کے متبادل ذرائع پر زور دیا ہے۔ نئے لائحہ عمل میں زرعی نظام، ہسپتالوں اور سکولوں کے لیے شمسی توانائی کی فراہمی اور پانی کے نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں تاکہ بجلی کے کمزور نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ نے ملک کے لیے اب تک 26.2 ملین ڈالر امدادی وسائل جمع کیے ہیں لیکن اندازوں کے مطابق اب بھی مزید 68 ملین ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔