انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: اقوام متحدہ تین سال سے جاری خانہ جنگی ختم کرنے میں کوشاں

سوڈان میں تنازعہ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگ چاڈ میں ایڈری اسساکھا ہارون سائٹ پر ایک عارضی پناہ گاہ کے نیچے جمع ہوتے ہیں۔
© IOM/François-Xavier Ada
سوڈان میں خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

سوڈان: اقوام متحدہ تین سال سے جاری خانہ جنگی ختم کرنے میں کوشاں

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جانب سے سوڈان میں جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں جہاں ملکی فوج اور اس کی مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین تین سال سے جاری جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل کے ذاتی ایلچی پیکا ہاویستو نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں 'آر ایس ایف' کے سربراہ حمدان دقلو سے ملاقات کی ہے جبکہ اس سے پہلے وہ سوڈانی فوج اور ملک کے سربراہ عبدالفتاح البرہان سے بھی مل چکے ہیں۔ 

ترجمان نے بتایا کہ ان ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے کے عملی طریقے تلاش کرنے کی کوشش ہوئی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا۔ فریقین نے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے جسے جلد از جلد عملی اقدامات میں بدلنا ہو گا تاکہ سوڈانی عوام کی تکالیف کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ خصوصی ایلچی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ملکی حکام، عرب لیگ کے نمائندوں اور قاہرہ میں مقیم سوڈانی برادری کے افراد سے بھی ملاقاتیں کیں۔

فوری جنگ بندی کا مطالبہ

ترجمان نے کہا کہ سوڈان میں اقوام متحدہ کی امدادی رابطہ کار ڈنیز براؤن امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کی ٹیم کے ساتھ خرطوم واپس جا رہی ہیں۔ ادارے کا زیادہ تر عملہ پورٹ سوڈان میں موجود ہے جبکہ اقوام متحدہ کے متعدد اداروں نے حالیہ مہینوں میں خرطوم میں اپنے دفاتر دوبارہ کھول دیے ہیں جو جنگ کے آغاز پر بند ہو گئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں 16 لاکھ سے زیادہ سوڈانی شہری خرطوم واپس آ چکے ہیں تاہم جنگ کی دھماکہ خیز باقیات اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ اب بھی بڑے خطرات کا باعث ہیں۔

انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات، خصوصاً طبی مراکز کے تحفظ، فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ، محفوظ اور مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کی اپیل دہرائی ہے۔ 

طبی سہولیات پر حملے

ترجمان نے خبردار کیا کہ سوڈان میں متحارب فریقین کے ایک دوسرے پر ڈرون حملے بدستور شہریوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

ریاست نیل ابیض میں گزشتہ جمعرات کو الجبلین ٹیچنگ ہسپتال پر حملے میں مبینہ طور پر 10 طبی کارکن ہلاک اور 22 زخمی ہوئے اور ہسپتال کی تمام خدمات شدید متاثر ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ سوڈان میں جنگ کے آغاز سے اب تک طبی سہولیات پر 200 سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں 2,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی ایسے 13 حملے کیے گئے جن میں 184 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوئے۔

سٹیفن ڈوجیرک نے زور دیا ہے کہ سوڈان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے امدادی وسائل کی فوری فراہمی ناگزیر ہے۔ رواں سال ملک میں دو کروڑ لوگوں کی امدادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2.9 رب ڈالر درکار ہیں جبکہ تاحال اس میں سے 16 فیصد وسائل ہی مہیا ہو سکے ہیں۔