غزہ: یو این ادارے پینے کے صاف پانی کی فراہمی بحال کرنے میں کامیاب
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) اور اس کے شراکت دار جنوبی غزہ میں صاف پانی تک رسائی بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے کے دوران سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ کو نقصان پہنچنے کے بعد علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی 20 فیصد سے بھی کم رہ گئی تھی جبکہ حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں پلانٹ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ بحال کر لیا گیا ہے۔
'اوچا' نے واضح کیا ہے کہ پلانٹ کو نقصان پہنچنے سے دیر البلح اور خان یونس کے علاقے المواصی میں تقریباً پانچ لاکھ افراد پینے کے پانی تک مکمل رسائی سے محروم ہو گئے تھے حالانکہ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کی مدد سے ٹینکروں کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کی کوششیں بھی جاری تھیں۔
'اوچا' کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں لوگوں کی ضروریات اب بھی امدادی اداروں کی فراہم کردہ سہولیات سے کہیں زیادہ ہیں۔ خاص طور پر مخصوص امدادی اشیا کی فراہمی پر کڑی پابندیوں اور دیگر رکاوٹوں کے باعث ضروری مدد تک مکمل رسائی ممکن نہیں ہے۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ امدادی شراکت داروں کے لیے سہولتیں فراہم کرنا بہت ضروری ہے اور دستیاب سرحدی راستوں کے ذریعے بڑی مقدار میں ضروری اشیاء کو غزہ میں لانے کی اجازت دی جانا چاہیے جبکہ اس وقت امدادی سامان کی ترسیل کے لیے صرف کیریم شالوم کا سرحدی راستہ ہی کھلا ہے۔