یو این اصلاحات کا ایجنڈا تجاویز سے عملدرآمد کے مرحلے میں داخل
اقوام متحدہ میں اصلاحات لانے کا وسیع عمل (یو این 80) اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ادارے کے نظام کو اس انداز میں ازسرنو ترتیب دینا ہے کہ ہر ذمہ داری، ہر ڈالر اور ہر فیصلہ لوگوں اور کرہ ارض کے لیے زیادہ سے زیادہ موثر ثابت ہو۔
سوموار کو جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے ایک اجلاس میں رکن ممالک کو اساقدام کے تحت بعض چنیدہ تجاویز پر بریفنگ دی۔ ان میں صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے ادارے 'یو این ویمن' اور جنسی و تولیدی صحت کے ادارے(یو این ایف پی اے)کے ممکنہ انضمام کا ابتدائی جائزہ اور ٹیکنالوجی و معلومات سے متعلق پیش رفت شامل تھی۔
اقوام متحدہ میں پالیسی سے متعلق امور کے انڈر سیکرٹری جنرل گائے ریڈر نے رکن ممالک کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا وسیع عمل اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں توجہ عملی نتائج پر مرکوز ہے۔ جنرل اسمبلی نے گزشتہ ہفتے ایک اہم قرارداد منظور کی ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کے اداروں کی ذمہ داریوں کی تشکیل، نفاذ اور جائزے کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے۔ اس حوالے سے تیار کردہ لائحہ عمل میں 80 فیصد سے زیادہ ابتدائی اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ شائع ہونے والی ایک جامع رپورٹ میں ہر ورک پیکیج کی موجودہ صورتحال اور ان کی تکمیل کے لیے آئندہ لائحہ عمل اور نظام الاوقات واضح کیے جائیں گے۔
اداروں کا انضمام
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرلامینہ محمد کا کہنا تھا کہ "'یو این ویمن' اور 'یو این ایف پی اے'نے دہائیوں سے خواتین، لڑکیوں اور نوجوانوں کے لیے مسلسل نتائج فراہم کیے ہیں لیکن اب عالمی حالات تیزی سے پیچیدہ ہو رہے ہیں اس لیے موجودہ نظام کو برقرار رکھنا کافی نہیں۔
ابتدائی جائزے کے مطابق، اگر دونوں اداروں کو ضم کر دیا جائے تو صنفی مہارت اور تولیدی صحت و حقوق کی ذمہ داریوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے جس سے ہم آہنگی بڑھے گی، رسائی وسیع ہوگی اور 150 سے زیادہ ممالک میں خدمات کی فراہمی مزید موثر ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر، 'یو این ویمن' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث نے کہا، سوال یہ نہیں کہ ادارے کارکردگی دکھا رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ آیا موجودہ ڈھانچہ مستقبل کے مسائل کو حل کرنے کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
'یو این ایف پی اے' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈائن کیٹا کا کہنا تھا کہ یہ انضمام بیک وقت ایک موقع بھی ہے اور پیچیدہ عمل بھی۔ اس قدر بڑے پیمانے پر انضمام کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی اور مضبوط انتظامات ضروری ہوں گے تاکہ کام کا تسلسل برقرار رہے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے حکام نے واضح کیا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ رکن ممالک ہی کریں گے۔
ڈیجیٹل نظام کی بہتری
بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان مارٹن نے بتایا کہ اقوام متحدہ ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے لیکن اس کے استعمال میں تنظیمی مسائل رکاوٹ ہیں۔ یہ سرمایہ کاری اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے لیکن یہ بھی واضح کرتی ہے کہ وسائل کے بہتر استعمال کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر سالانہ تقریباً 2.5 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی کمی نہیں بلکہ نظام کا بکھراؤ، مالی پابندیاں اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچہ ہے۔
ان مسائل کے مجوزہ حل کے طور پر مشترکہ خدمات کو فروغ دینے، دہرے کام کو کم کرنے اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقوام متحدہ زیادہ مربوط اور موثر ادارہ بن سکے۔
معلومات کا مشترکہ پلیٹ فارم
ڈیٹا سے متعلق ورک پیکیج کے تحت اقوام متحدہ ایک 'ڈیٹا کامنز' پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے جو مختلف اداروں میں بکھری ہوئی معلومات کو ایک جگہ جمع کرے گا۔
اقتصادی و سماجی امور کے لیے ادارے کے انڈر سیکرٹری جنرل لی جنہوا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کو بروقت، قابل اعتماد اور باآسانی قابل استعمال معلومات درکار ہیں۔ تاہم، موجودہ بکھراؤ کی وجہ سے اقوام متحدہ کے وسیع معلوماتی وسائل سے مکمل فائدہ اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ پلیٹ فارم رواں سال ستمبر تک فعال ہونے کی توقع ہے جو ایک ہی جگہ سے ڈیٹا تک رسائی فراہم کرے گا جس کی بدولت ان معلومات کا موازنہ اور استعمال آسان ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ یہ اقدام ڈیٹا کے بہتر نظم و نسق اور اشتراک کی بنیاد مضبوط بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر اس پروگرام کو درست طریقے سے نافذ کر لیا جائے تو رکن ممالک اور دیگر صارفین کو ایک ہی جگہ قابل اعتماد معلومات دستیاب ہوں گی اور یہ نظام مستقبل میں بھی موثر اور کارآمد رہے گا۔