فٹبال ورلڈ کپ: رکاوٹیں عبور اور فاصلے کم کرنے کی طاقت
بین الاقوامی کھیل دنیا کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں فٹ بال بھی شامل ہے جس کے عالمی کپ کا فائنل میچ رواں سال جولائی میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر میٹ لائف سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
گزشتہ بدھ کو متعدد ممتاز کھلاڑی اور کھیلوں کے منتظمین اس سٹیڈیم میں ایک تقریب کے لیے جمع ہوئے اور عالمگیر امن، یگانگت اور ترقی کے لیے کھیلوں کی طاقت اور اہمیت پر بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل ہر معاشرے میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سرحدوں اور نسلوں کو آپس میں جوڑتے اور مکالمے، یکجہتی اور باہمی احترام کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری رہنے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں 48 ممالک کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس دوران مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے جنہیں دنیا بھر میں اربوں لوگ دیکھیں گے۔
ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں'پلے کولیکٹو' نامی پروگرام بھی شروع کیا جائے گا جو مقامی سطح پر کھیلوں کی تنظیموں کو مالی معاونت اور دیگر مدد فراہم کرے گا تاکہ ہر جگہ مواقع سے محروم نوجوانوں کے لیے محفوظ اور مثبت ماحول میسر آ سکے۔
یہ منصوبہ ایڈیڈاس فاؤنڈیشن، بے یانڈ سپورٹ فاؤنڈیشن اور کامن گول کا مشترکہ اقدام ہے۔ کامن گول دنیا بھر میں مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو ہر سال 36 لاکھ نوجوانوں کی مدد کرتا ہے۔
ہم آہنگی اور اتحاد کی اہمیت
6 اپریل کو منائے جانے والے کھیل برائے ترقی و امن کے عالمی دن کی مناسبت سے میٹ لائف سٹیڈیم میں 'روابط کا قیام اور رکاوٹوں کا خاتمہ' کے عنوان سے ہونے والی تقریب میں کامن گول کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر میری کونر بھی شریک تھیں۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جس طرح فٹ بال میں کامیابی کے لیے ٹیم کے ارکان کا ساتھ دینا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح اقوام متحدہ میں بھی مختلف ثقافتوں اور اختلافات کے باوجود لوگ اکٹھے ہو کر مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں تاکہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی راہ نکالی جا سکے۔
نوال المتوکل: تاریخ ساز کھلاڑی
معروف کھلاڑی نوال المتوکل بھی اس تقریب میں شریک تھیں۔ انہوں نے 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں 400 میٹر کی رکاوٹوں والی دوڑ میں سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی اور پہلی مراکشی، افریقی، عرب اور مسلمان خاتون بنیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا۔
ان کی یہ کامیابی سنگ میل ثابت ہوئی جس نے مراکش کی خواتین میں کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا کیونکہ اس سے پہلے ان کے معاشرے میں کھیل کو زیادہ تر مردوں کا میدان سمجھا جاتا تھا۔
نوال المتوکل ان دنوں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی نائب صدر بھی ہیں اور کھیل اور سماجی ترقی کے لیے اپنی خدمات کے اعتراف میں متعدد عالمی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔
زندگی کی رکاوٹوں پر فتح
نوال نے اپنی دوڑ کو زندگی کی مشکلات سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی زندگی میں پیش آنے والی رکاوٹوں نے نظم و ضبط، ہم آہنگی، عزم اور جذبہ سکھایا۔ ان کی راہ میں ناکامیاں بھی آئیں لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
انہوں نے کہا، یہ بات خوش آئند ہے کہ 100 سال میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی صدر بنی ہے اور وہ خود پہلی افریقی خاتون ہیں جو کمیٹی کی نائب صدارت پر متمکن ہوئی ہیں۔ اب کمیٹی میں ہر سطح پر خواتین کی نمائندگی 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو ترقی کی واضح علامت ہے۔
اس تقریب میں کئی نوجوان کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی، جنہوں نے بتایا کہ کھیل نے ان کی زندگیوں پر کس قدر مثبت اثر ڈالا۔ ان میںایلن لوپز بھی شامل تھیں جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذہنی صحت کے مسائل پر قابو پانے کے لیے فٹ بال کا سہارا لیا اور اب'سٹریٹ چائلڈ یونائیٹڈ' نامی کے ساتھ بطور نوجوان رہنما کام کر رہی ہیں جو کھیلوں سے کام لیتے ہوئے بے گھر یا انتہائی غریب بچوں کی مدد کرتی ہے۔
وسیع تر رسائی، مقبولیت اور مثبت اقدار کی بنیاد پر کھیل اقوام متحدہ کے ترقی اور امن کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 6 اپریل کو کھیل برائے ترقی و امن کا عالمی دن قرار دیا تھا۔