ایران نیوکلیئر پلانٹ کے قریب حملے پر گروسی کو تشویش
جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل مینوئل گروسی نے ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حملے کی اطلاع پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد فی الوقت تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جوہری مراکز یا ان کے قریبی علاقوں پر حملے نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ان جگہوں پر اہم حفاظتی تنصیبات بھی موجود ہو سکتی ہیں جنہیں نقصان پہنچنے سے سنگین جوہری حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ اس میں حفاظتی عملے کے ایک رکن کی راکٹ کے ٹکڑے لگنے سے موت واقع ہوئی جبکہ مرکز پر ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
18 مارچ کو بھی بوشہر جوہری پلانٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں اس سے 350 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک عمارت تباہ ہوئی۔ اس حملے میں ری ایکٹر محفوظ رہا اور کوئی فرد زخمی نہ ہوا۔ 'آئی اے ای اے' کے مطابق، جوہری تنصیبات کے قریب کوئی بھی حملہ ان کی حفاظت سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نے رواں ماہ کے آغاز میں 'آئی اے ای اے' کے بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے نتیجے میں وہاں جوہری مراکز کے تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
جوہری تحفظ کے 7 اصول
رافائل گروسی نے کہا ہے کہ جوہری تحفظ کے حوالے سے 'آئی اے ای اے' کے سات اصولوں کی پاسداری انتہائی ضروری ہے۔ درج ذیل اصول مارچ 2022 میں پیش کیے گئے تھے تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں جوہری تحفظ اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے غیر معمولی مسئلے سے نمٹا جا سکے۔
- جوہری تنصیبات بشمول ری ایکٹروں، ایندھن کے تالابوں اور ریڈیائی فضلہ جمع کرنے کے مقامات کی حفاظت۔
- تحفظ اور سلامتی کے نظام اور آلات کی ہمہ وقت فعالیت۔
- جوہری مراکز پر تعینات عملے کے لیے اپنے فرائض بخوبی انجام دینے اوردباؤ سے آزاد فیصلے کرنے کی صلاحیت۔
- تمام جوہری مراکز کو گرڈ کی جانب سے محفوظ انداز میں بجلی کی متواتر فراہمی۔
- جوہری مراکز تک اور وہاں سے سے ضروری سامان کی بلارکاوٹ نقل و حمل۔
- جوہری مراکز اور دیگر جگہوں پر تابکاری کی موثر نگرانی کا انتظام۔ ہنگامی حالات کے لیے ضروری اقدامات کی پیشگی تیاری۔
- جوہری نگرانوں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ قابل اعتماد رابطوں کا قیام۔