انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ بحران: دنیا میں بڑی جنگ کا خدشہ، یو این چیف کا انتباہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک پوڈیم پر امریکہ اور برطانیہ کے جھنڈے دکھائی دے رہے ہیں۔
UN Photo/Mark Garten
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش نیو یارک میں ادارے کے صدر دفتر میں ایران جنگ پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ بحران: دنیا میں بڑی جنگ کا خدشہ، یو این چیف کا انتباہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے جس کے عالمی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا ہر گزرتا دن انسانی مصائب میں اضافہ کر رہا ہے۔ تباہی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور اندھا دھند حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جنگ میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک شدید معاشی خطرات سے دوچار ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے کہا ہے کہ اس بحران کے اثرات اب صرف خطے تک محدود نہیں رہے۔ نقل و حمل کی آزادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جب آبنائے ہرمز کا گلا گھونٹا جاتا ہے تو دنیا کے غریب اور کمزور ممالک کا سانس رک جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے اثرات پہلے ہی فلپائن، سری لنکا اور موزمبیق جیسے ممالک میں خوراک اور توانائی کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔

جنگ بندی کی سفارتی کوششیں

سیکرٹری جنرل نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ذاتی ایلچی ژاں آرنو کو خطے میں بھیج رہے ہیں تاکہ قیام امن کے لیے جاری کوششوں میں مدد فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موت اور تباہی کا یہ سلسلہ رک جانا چاہیے اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسئلے کے کسی بھی حل کی بنیاد بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر ہونی چاہیے۔ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے اور ایران سمیت دیگر جگہوں پر شہریوں اور جوہری تنصیبات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

فریقین کے نام پیغام

سیکرٹری جنرل نے متحارب فریقین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل فوری طور پر اس جنگ کو روکیں جو بے پناہ انسانی مصائب اور شدید معاشی نقصانات کا باعث بن رہی ہے۔ ایران کو بھی اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرنا چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات خود بخود ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کا خاتمہ اس وقت ہوتا ہے جب عالمی رہنما تباہی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ انتخاب اب بھی موجود ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔

سلامتی کونسل میں ایران پر تنقید

اقوام متحدہ اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ 

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کی اور گزشتہ ماہ کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد 2817 (2026) کا حوالہ دیا جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن پر حملے فوری طور پر بند کرے۔

خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البداوی نے کونسل کو بتایا کہ ایران نے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، رہائشی و تجارتی علاقوں، ایندھن کے ذخائر، خدمات کے مراکز اور سفارتی مراکز سمیت اہم شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جی سی سی' ان حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے جو رکن ممالک کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ کونسل کے ممالک جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ امن، سلامتی اور استحکام کے خواہاں ہیں۔

نقل مکانی کا بحران

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے شام کا دورہ کرنے کے بعد سلامتی کونسل کو دمشق اور دیگر علاقوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی اور شامی خاندان تقریباً خالی ہاتھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ملک میں امدادی ضروریات شدت اختیار کر چکی ہیں، مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار شامی شہری وطن واپس آئے ہیں اور 25 ہزار لبنانی شہری بھی نقل مکانی کر کے شام پہنچے ہیں۔

ٹام فلیچر نے بتایا کہ شامی عوام اپنی زندگیوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے مسلسل متحرک ہیں اور بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی کو ڈھال رہی ہیں۔

اس دورے میں وہ لبنان بھی گئے جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کے باعث چند ہفتوں میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، زندگیاں بکھر گئی ہیں اور اہم شہری ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔