سلامتی کونسل: بحرین کی صدارت میں پہلا اجلاس، جی سی سی کی اہمیت تسلیم
اقوام متحدہ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے مابین تعاون کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ فریقین مشترکہ مسائل بشمول دہشت گردی کی روک تھام اور بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھائیں گے۔
اس اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشد الزیانی نے کی جو رواں ماہ سلامتی کونسل کی صدارت بھی کر رہے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر کونسل کی جانب سے ایک صدراتی بیان جاری کیا گیا جسے تمام 15 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔
بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک کی خودمختاری، آزادی، اتحاد، اور علاقائی سالمیت کے لیے مضبوط عزم کی تصدیق کی گئی ہے۔
خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کو فروغ دینے میں 'جی سی سی' کی مہارت اور مقام کو تسلیم کیا گیا۔
'جی سی سی' کی ثالثی، تنازعات کی روک تھام کے لیے سفارت کاری، تکنیکی اور مالی معاونت اور امدادی اقدامات کے ذریعے خطے اور بین الاقوامی استحکام کے لیے خدمات کو سراہا گیا ہے۔
یو این اور جی سی سی
اقوام متحدہ اور 'جی سی سی' کے سیکرٹریٹ کے درمیان مشاورتی عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
بیان میں سلامتی کونسل نے اپنی سابقہ متعلقہ قراردادوں کا حوالہ دیا ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی معیشت میں اس کے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہیں۔
کونسل نے 'جی سی سی' کے رکن ممالک کی جانب سے قیام امن اور انسانی امداد کے شعبے میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں اہم کردار کو اجاگر کیا ہے۔
امن و سلامتی کے لیے خواتین اور نوجوانوں کی مکمل، معنی خیز اور مساوی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے قرارداد 1325 (2000) اور 2250 (2015) کے مطابق اقوام متحدہ اور 'جی سی سی' کی مشترکہ کوششوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔