ایران جنگ سے قابل تجدید توانائی کی اہمیت اجاگر، اقوام متحدہ
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی معیشت کی اس بنیادی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے کہ بہت سے ممالک کی معیشتوں کا انحصار جس معدنی ایندھن پر ہے اس کی ترسیل ایسے خطوں سے ہوتی ہے جو مسلح تنازعات کی زد میں ہیں۔ ان حالات میں قابل تجدید توانائی کی اہمیت بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔
دنیا کے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ خلیج فارس کی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد بڑی حد تک جہاز رانی کے لیے بند ہو چکی ہے۔
ایندھن کی رسد میں پیدا ہونے والے اس خلل کے باعث دنیا بھر میں توانائی کے بحران نے جنم لیا ہے جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی منڈیاں ہل کر رہ گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی یہ رکاوٹ اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ توانائی کا تحفظ اب صرف رسد کی ترسیل محفوظ بنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں استحکام اور متبادل ذرائع کی تلاش بھی شامل ہو گئی ہے۔
توانائی کے تحفظ کا مسئلہ
معدنی ایندھن کے استعمال پر تشویش عموماً ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑی جاتی ہے کیونکہ ان کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیسیں زمین کی حدت میں اضافہ کرتی ہیں لیکن اب اس معاملے میں توانائی کے تحفظ کا پہلو بھی نمایاں ہو گیا ہے۔
رواں سال کے آغاز پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرلانتونیو گوتیرش نے خبردار کیا تھا کہ جنگوں کے اس دور میں معدنی ایندھن پر انحصار نہ صرف ماحول بلکہ عالمی سلامتی کو بھی غیر مستحکم کر رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ:
- تیل اور گیس کے اہم ذخائر ایسے علاقوں میں ہیں جو مسلح تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
- نقل و حمل کے راستے عسکری کشیدگی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
- قیمتوں میں اتار چڑھاؤ تیزی سے عالمی معیشت میں پھیل جاتا ہے۔
غیریقینی صورتحال
دنیا بھر کے ممالک اب بھی اپنی روزمرہ ضروریات اور معاشی ترقی کے لیے معدنی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں جس کے باعث وہ اس ایندھن کی ترسیل میں اچانک پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے سامنے پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے مطابق، دنیا کی تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جو معدنی ایندھن درآمد کرتے ہیں اور ایسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں جس پر ان کا کنٹرول نہیں اور جس کی قیمت کے بارے میں وہ قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتے۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ترقیاتی بجٹ ایندھن کے اخراجات کی نذر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے معدنی ایندھن سے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کو ممنوع سمجھنا بند کرنا ہو گا۔
قابل تجدید توانائی کی اہمیت
اس بحران سے بچنے کا ایک حل قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوائی اور آبی توانائی) کی طرف منتقلی ہے۔
یہ توانائی کا ایک بالکل مختلف نظام ہے جو:
- زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہے۔
- مقامی سطح پر پیدا کی جا سکتی ہے اور،
- عالمی بحرانوں سے نسبتاً محفوظ رہتی ہے۔
ماحولیاتی امور کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ سائمن سٹیئل نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی معیشتوں کو جنگوں اور تجارتی بحرانوں کے دھچکوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
مثبت پیش رفت
اس توانائی کی جانب بڑے پیمانے پر منتقلی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے:
- کینیا قابل تجدید توانائی، بالخصوص جیو تھرمل توانائی کی پیداوار میں عالمی رہنما بن چکا ہے۔
- چلی شمسی اور ہوائی توانائی کے ذریعے تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس ضمن میں خاص طور پر صحرائے اٹاکاما کی قدرتی خصوصیات سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
- انڈیا بھی شمسی اور ہوائی توانائی کو فروغ دے رہا ہے تاہم، اب بھی اس کا انحصار تیل اور گیس پر ہے جو عموماً آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے۔