عرب ممالک: جنگ سے لاکھوں افراد کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا، یو این
مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن (ایسکوا) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے تناظر میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا تو کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے عرب ممالک میں مزید 50 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظکا شکار ہو سکتے ہیں۔
کمیشن نے کہا ہے کہ یہ خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور تنازعات سے متاثرہ کمزور ممالک کے لیے حالات کہیں زیادہ خراب ہیں جن کے پاس مالی وسائل محدود ہیں اور وہ خوراک کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ انتباہ کمیشن کی نئی رپورٹ بعنوان 'جنگ اور اس کے نتائج: عرب خطے میں توانائی، پانی اور غذائی نظام پر بڑھتے اثرات اور خطرات' میں جاری کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی تجارت فوری طور پر متاثر ہوئی ہے اور اس کے وسیع معاشی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات یہ جنگ شروع ہونے کے بعد 75 سے 90 فیصد تک کم ہو گئی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ کر 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
ایسکوا کے مطابق ان رکاوٹوں کے باعث:
- مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے
- مالی خسارے بڑھ رہے ہیں، اور
- نقل و حمل اور انشورنس کے اخراجات نئی بلندیوں کو چھونے لگے ہیں۔
آبی تحفظ کے لیے خطرات
رپورٹ میں آبی تحفظ سے متعلق سنگین خطرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں تقریباً چار کروڑ افراد صاف کیے گئے سمندری پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی لیے، توانائی یا پانی کی صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے یا سمندری آلودگی کے باعث ان کی صاف پانی تک رسائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو انسانی بحران جنم لے سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر خاندان ہنگامی حالات کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ایسکوا کے قائم مقام ایگزیکٹو سیکرٹریمراد وہبہ نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار فوری اور مربوط اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں جن میں تجارتی ترسیل کے نظام کا تحفظ، بروقت انتباہی نظام کی موجودگی، تجارتی راستوں میں تنوع اور توانائی، پانی اور خوراک کے متبادل و پائیدار نظام میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔
غربت میں اضافے کا خدشہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ عرب خطہ ضرورت کا زیادہ تر اناج درآمد کرتا ہے جبکہ اس کے موجودہ ذخائر زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے کافی ہوں گے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہتیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، جہاز رانی کے راستوں میں رکاوٹوں اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے خوراک کی قیمتیں اور پیداواری لاگت بھی بڑھ جائیں گی جس سے کم آمدنی والے گھرانے اور کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
مراد وہبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تنازعات کے مجموعی اثرات غربت کے فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں، کمزور ممالک میں سماجی بے چینی جنم لے سکتی ہے اور عرب خطے میں پائیدار ترقی کے لیے اب تک کی پیش رفت کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔