انسانی کہانیاں عالمی تناظر

آبنائے ہرمز: بیس ہزار ملاح مال بردار جہازوں میں پھنس کر رہ گئے

نیلے آسمان کے سامنے بحری جہاز کی ڈیک پر حفاظتی لباس پہنے چار مسکراتے ہوئے ملاح کھڑے ہیں۔
IMO ایک بحری آئل ٹینکر کا عملہ۔

آبنائے ہرمز: بیس ہزار ملاح مال بردار جہازوں میں پھنس کر رہ گئے

امن اور سلامتی

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں 20 ہزار ملاح اپنے بحری جہازوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دنیا کو ایسی صورتحال کا سامنا ہے۔

یہ ملاح تقریباً 2,000 جہازوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں تیل اور گیس کے ٹینکر، مال بردار بحری جہاز اور چھ کروز شپ شامل ہیں۔ یہ تمام جہاز خلیج فارس کے اندر محصور ہیں جن کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا ممکن نہیں رہا۔ ایران اس آبنائے کے شمالی کنارے پر واقع ہے جس نے اعلان کیا ہے کہ وہ صرف اپنے دوست ممالک کے جہازوں کو ہی گزرنے کی اجازت دے گا۔

جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 150 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف چار یا پانچ رہ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سوموار کو چین کے جھنڈے تلے دو مال بردار جہاز آبنائے سے گزرتے ہوئے خلیج عمان اور نسبتاً محفوظ پانیوں کی طرف گئے ہیں۔

بحری جہازوں پر حملے

بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کے 19 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک اس آبنائے میں سات ملاح ہلاک، آٹھ زخمی اور پانچ لاپتہ ہو چکے ہیں۔

ان جہازوں کو نشانہ بنانے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں۔ منگل کو دبئی کے ساحل کے قریب ایک تیل سے بھرا ٹینکر بھی حملے کا نشانہ بنا۔ خیال ہے کہ یہ حملہ ایک مسلح ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران حملوں کی رفتار میں قدرے کمی آئی ہے جس کی وجہ بحران کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششیں بتائی جا رہی ہیں۔

ملاحوں کی سلامتی

'آئی ایم او' آبنائے میں پھنسے 20 ہزار ملاحوں کے انخلا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ادارے میں شعبہ سمندری تحفط کے ڈائریکٹر ڈیمین شووالیے نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید دور میں اس نوعیت کی کوئی مثال موجود نہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں ملاح ایک ساتھ پھنس جائیں۔

انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ حملوں میں کمی لائی جائے تاکہ ملاحوں کو بحفاظت نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ملاح ایک ماہ سے فعال جنگی علاقے میں کام کر رہے ہیں جو کہ انتہائی خوفناک صورتحال ہے اور ان پر پڑنے والے نفسیاتی دباؤ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

نقل و حملے کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کی بین الاقوامی تنظیم (آئی ٹی ایف) نے تصدیق کی ہے کہ اسے پھنسے ہوئے عملے کی جانب سے ایک ہزار سے زیادہ ای میل موصول ہوئی ہیں جن میں جہازوں کے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وطن واپسی میں مدد دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

جنگ بندی کا مطالبہ 

خلیج میں موجود 2,000 بحری جہازوں کو سعودی عرب اور عمان سے کام کرنے والی کمپنیاں خوراک، پانی اور ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ سعودی حکام (آئی ایم او) کے ساتھ جہاز رانی کے شعبے کو ان کمپنیوں سے رابطے کی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ادارے نے ایران سے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ 'دشمن جہاز' کی تعریف کیا ہے، تاکہ خطرے کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

شووالیے نے کہا ہے کہ اس مسئلے کا بہترین حل یہی ہے کہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر گزرنے کی اجازت دی جائے جس کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔