ایران جنگ سے ترقی پذیر ممالک کو توانائی کے بحران کا سامنا
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بڑے پیمانے پر متاثر ہونے سے افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ایسے ترقی پذیر ممالک میں توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے جن کا مائع گیس، خوراک اور کھاد کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے اس لیے بہت سے مزدور اور غریب گھرانے دوبارہ تیل اور کوئلہ استعمال کرنے لگے ہیں جس سے طویل المدتی ماحولیاتی نقصان کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ متعدد ممالک نے پہلے ہی ایندھن کی راشن بندی اور آن لائن اجلاسوں کی طرف منتقلی کا اعلان کر دیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے سے پیدا ہونے والے حالات کے نتیجے میں خلیج فارس کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے جس سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل میں خلل آیا ہے جس کے اثرات گیس، کوئلے، نقل و حمل، خوراک اور کھاد تک پھیل گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) میں پالیسی سے متعلق تجزیے اور تحقیق کے شعبے کے سربراہ جونیئر ڈیوس نے کہا ہے کہ کم ترقی یافتہ ممالک میں سے صرف چند ہی توانائی برآمد کرتے ہیں جن میں جنوبی سوڈان، انگولا، چاڈ، موزمبیق، لاؤ، میانمار اور یمن شامل ہیں۔ زیادہ تر ممالک توانائی درآمد کرتے ہیں جن میں نیجر، زیمبیا، روانڈا، ایتھوپیا، تنزانیہ، مڈغاسکر، ٹوگو، سوڈان، یوگنڈا، نیپال، اریٹیریا، بینن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا اور سینیگال شامل ہیں۔
غذائی عدم تحفظ کا خطرہ
ڈیوس نے انگولا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تیل برآمد کرنے والے ترقی پذیر ممالک کو ان حالات میں محدود فائدہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ ان میں بہت سے ممالک کے پاس تیل صاف کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور انہیں مہنگے داموں صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات دوبارہ درآمد کرنا پڑتی ہیں۔
انگولا کے ہمسایہ ملک زیمبیا کو اس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ (خصوصاً متحدہ عرب امارات) سے درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔ اسی طرح کم ترقی یافتہ ممالک کھاد کے لیے بھی بیرونی دنیا پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ کھاد کی تیاری میں قدرتی گیس بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت'ایف اے او' کے مطابق، دنیا کے 17 غریب ترین ممالک کو اپنی اناج کی ضروریات کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ یہی ممالک اپنی برآمدی آمدن کا نصف سے زیادہ صرف خوراک خریدنے پر خرچ کرتے ہیں۔
ڈیوس کہتے ہیں کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں فوری طور پر خوراک کی قیمتوں میں منتقل ہو جائیں گی جس سے گھریلو سطح پر غذائی عدم تحفظ میں بھی اضافہ ہو گا۔
غریب ممالک پر دباؤ
توانائی کے اس بحران کا فوری حل نکالنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ بہت سے غریب ممالک پہلے ہی بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس مسئلے پر تنقید کرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر چکے ہیں تاکہ انصاف، مسابقت اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
موجودہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر انکٹاڈ نے بتایا ہے کہ دنیا کے 15 کم ترین ترقی یافتہ ممالک تاحال تک کووڈ وبا کے معاشی اثرات سے نکل نہیں سکے اور ان کی معیشتیں 2019 کے مقابلے میں بدتر حالت میں ہیں۔
ایندھن کی بچت کے اقدامات
بہت سے ممالک نے حالیہ بحران کے تناظر میں ایندھن کی بچت کرنے کے لیے معتدد ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
- بنگلہ دیش نے ایندھن کی راشن بندی، بجلی کے مخصوص حد سے زیادہ استعمال پر پابندیوں اور یونیورسٹیوں کو بند رکھنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
- کمبوڈیا نے سرکاری اداروں میں توانائی کے استعمال میں کمی لانے، سرکاری و نجی سطح پر ن لائن اجلاسں کرنے، سرکاری سفر کو محدود کرنے، درجہ حرارت میں اضافے پر قابو پانے اور ایندھن کی قیمتوں کی سخت نگرانی کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔
- ایتھوپیا میں کفایت شعاری کے ساتھ ایندھن کے محدود و موثر استعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔
- میانمار میں ایندھن کی راشن بندی، متبادل دنوں میں گاڑی چلانے کی پابندی اور سرکاری ملازمین کے لیے فاصلاتی کام کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
- لاؤ میں بھی سرکاری ملازمین کے لیے فاصلاتی کام کے نظام متعارف کرائے گئے ہیں۔ کارکنوں کی شفٹیں مقرر کی گئی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی مہم چلائی جا رہی ہے، ایندھن کی راشن بندی ہو رہی ہے، نقل وحمل پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں ٹیکس میں کمی لائی جاری ہے اور حکومت امدادی قیمتیں دے رہی ہے۔
- سینیگال میں گھریلو اور کاروباری سطح پر توانائی کے استعمال کو کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔