افغانستان: خواتین کی لکھی کتابیں تعلیمی اداروں اور کتب خانوں سے غائب
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے خارج کرنے کے اقدامات جاری ہیں اور حالات روز بروز بگڑ رہے ہیں۔
ادارے کی اگست 2025 سے رواں سال جنوری تک کے حالات سے متعلق تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق، لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت اب بھی نہیں دی جا رہی جبکہ نومبر میں مسلسل دوسرے سال میڈیکل گریجوایشن کے امتحانات خواتین کے بغیر منعقد کیے گئے۔
جو خواتین برقع اوڑھنے کے لازمی تقاضے پر عمل نہیں کرتیں انہیں پبلک ٹرانسپورٹ سے اتار دیا جاتا ہے۔ نہ تو انہیں بازاروں میں آنے کی اجازت ہے اور نہ ہی وہ عوامی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ طالبان کی سکیورٹی فورسز اقوام متحدہ سے منسلک خواتین کو ملک بھر میں ادارے کے دفاتر میں داخل ہونے سے بھی روک رہی ہیں۔
خواتین کی لکھی ہوئی تمام کتابیں دکانوں، لائبریریوں حتیٰ کہ بعض صوبوں میں یونیورسٹیوں کی لائبریریوں سے بھی ہٹا دی گئی ہیں۔
سرعام سزائیں
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکام نے خواتین اور لڑکیوں کی عوامی زندگی میں موجودگی کو جرم بنا دیا ہے جبکہ ان کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
رپورٹ کے مطابق، اگست 2021 سے اب تک طالبان حکام نے 12 مرتبہ کھلے عام سزائے موت دی ہے۔ ایسے دو واقعات اگست 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان پیش آئے۔ علاوہ ازیں، مختلف جرائم پر لوگوں کو سرعام جسمانی سزائیں بھی باقاعدگی سے دی جا رہی ہیں۔
ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ لوگوں کو بھی اپنے کام کی پاداش میں غیر متناسب پابندیوں اور ناجائز حراستوں کا سامنا ہے۔