یوکرین: ڈرونوں کا بڑھتا استعمال شہریوں کے لیے خطرات میں اضافہ، یو این
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ چار سال سے یوکرین میں جاری جنگ میں اب ڈرون حملے شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ رواں سال کے ابتدائی دو ماہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں محاذ جنگ کے قریب کم فاصلے پر مار کرنے والے ڈرون طیاروں سے ہوئیں۔
'او ایچ سی ایچ آر' کی نائب ہائی کمشنر ندا الناشف نے کونسل برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جنوری اور فروری کے دوران ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد معمر شہری تھے۔ ان مہینوں میں مجموعی طور پر 107 افراد ہلاک اور 430 زخمی ہوئے جبکہ گزشتہ پورا سال یہ تعداد بالترتیب 580 اور 3,000 تھی۔
محاذ جنگ کے قریب روس کے زیر قبضہ علاقوں جیسا کہ کیرسون کے ضلع اولیشکی میں شہریوں نے متواتر ڈرون حملوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سڑکوں پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باعث جنگ زدہ علاقوں سے انخلا نہایت مشکل اور خطرناک ہو گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ محاذ کے قریب پھنس کر رہ گئے ہیں جہاں خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی کمی بھی شدید مسئلہ بن چکی ہیں۔
توانائی کے نظام کی تباہی
انہوں نے روس کی جانب سے یوکرین میں توانائی کے ڈھانچے پر متواتر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امسال موسم سرما میں یہ حملے شدت اختیار کر گئے ہیں جن میں رہائشی عمارتوں کو گرم رکھنے والے نظام بھی نشانہ بنائے گئے۔
یوکرین بجلی پیدا کرنے کی نصف سے زیادہ صلاحیت کھو چکا ہے جس کے باعث بعض علاقوں میں روزانہ 22 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ لاکھوں شہری حرارت کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں جبکہ گزشتہ دنوں درجہ حرارت منفی 15 ڈگری سے بھی نیچے گرتا رہا ہے۔
بچوں کا تعلیمی نقصان
عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے بچوں نے جنگ میں اب تک کی سب سے سخت سردی جھیلی ہے، کیونکہ توانائی اور پانی کے نظام پر حملوں نے بجلی، حرارت اور صفائی کی سہولیات کو بری طرح متاثر کیا۔
ادارے کے مطابق، جنوری کے وسط سے فروری کے وسط تک بچوں کا 79 سے 88 فیصد تعلیمی وقت ضائع ہوا۔
جنگی قیدیوں پر تشدد
نائب ہائی کمشنر نے روس کی جانب سے جنگی قیدیوں کے ساتھ بدترین بدسلوکی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے نے جن یوکرینی جنگی قیدیوں سے بات کی ہے ان میں 96 فیصد سے زیادہ نے بتایا کہ انہیں قید کے دوران تشدد اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بند کرے اور ماورائے عدالت قتل، تشدد اور حقوق کی دیگر پامالیاں روک کر بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری یقینی بنائے۔
انہوں نے یوکرین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ جنگی قیدیوں کو تشدد اور بدسلوکی سے محفوظ رکھے اور ان لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرے جو باامر مجبوری روس کے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑتے ہیں۔
یوکرین کے حالات پر عالمی ردعمل
جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے یوکرین کے نمائندے نے کہا ہے کہ اس جنگ کے باعث دونیسک، لوہانسک، کیرسون، زیپوریژیا اور کرائمیا میں ہزاروں شہری بے گھر ہوئے جو روس کی دانستہ حکمت عملی ہے تاکہ شہریوں کو خوفزدہ کیا جائے اور مخالفت کو دبایا جائے۔
دوسری جانب، روسی وفد نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین میں حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والوں، بلاگرز اور صحافیوں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
جرمنی سمیت کئی ممالک نے روس کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ چین نے ایک مرتبہ پھر اس بحران کے سیاسی حل اور مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششوں پر زور دیا۔