بحران اور بجٹ کٹوتیاں کروڑوں بچوں کی تعلیم سے محرومی کا سبب، یونیسکو
آبادی میں تیزرفتار اضافے، بحرانوں اور تعلیمی بجٹ میں کمی کے باعث دنیا بھر میں سکول جانے سے محروم بچوں اور نوعمر افراد کی تعداد مسلسل ساتویں سال بڑھ کر 27 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے دنیا میں تعلیم کی صورتحال سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہر چھ میں سے ایک بچہ سکول نہیں جا سکتا جبکہ صرف دو تہائی طلبہ ہی ثانوی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔ کئی ممالک اس معاملے میں نمایاں پیش رفت بھی کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم سے متعلق اہداف اور پالیسیاں بناتے وقت ہر ملک کے حالات کو مدنظر رکھنا نہایت اہم ہے۔
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2015 کے بعد تقریباً تمام خطوں میں بچوں کو سکول میں رکھنے کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ ذیلی صحارا افریقہ میں یہ صورتحال کہیں زیادہ مخدوش ہے جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ علاوہ ازیں، جنگوں اور دیگر بحرانوں نے بھی اس پیش رفت کو متاثر کیا ہے۔ ہر چھ میں سے ایک بچہ ایسے علاقوں میں رہتا ہے جو تنازعات سے متاثر ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں جاری کشیدگی کے باعث بہت سے سکول بند ہونے سے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔
بعض ممالک گزشتہ 25 سال کے دوران سکول جانے سے محروم رہنے والے بچوں اور نوعمر افراد کی شرح میں 80 فیصد تک کمی لائے ہیں۔ اس حوالے سے مڈغاسکر، ٹوگو، مراکش، ویت نام، جارجیا، ترکیہ اور آئیوری کوسٹ کی کارکردگی نمایاں ہے۔
صنفی فرق کا خاتمہ
2024 میں 1.4 ارب طلبہ سکولوں میں زیر تعلیم تھے جو 2000 کے مقابلے میں 32 کروڑ 70 لاکھ (30 فیصد) اضافہ ہے۔ اس عرصہ کے دوران قبل از پرائمری تعلیم میں 45 فیصد جبکہ اعلیٰ تعلیم میں 161 فیصد اضافہ ہوا۔
ایتھوپیا میں پرائمری تعلیم میں داخلے کی شرح 1974 میں 18 فیصد تھی جو بڑھ کر 2024 میں 84 فیصد ہو گئی جبکہ چین میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی 1999 میں 7 فیصد تھی جو بڑھ کر 2024 میں 60 فیصد سے زیادہ ہو گئی۔
ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں صنفی فرق بھی بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر، نیپال میں لڑکیوں نے تیزی سے لڑکوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بعض علاقوں میں انہیں پیچھے بھی چھوڑ دیا جو صنفی برابری کی موثر پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے۔ 2000 کے بعد پرائمری تعلیم مکمل کرنے کی شرح 77 فیصد سے بڑھ کر 88 فیصد، زیریں ثانوی تعلیم میں 60 فیصد سے 78 فیصد جبکہ اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کرنے کی شرح 37 فیصد سے بڑھ کر 61 فیصد ہو گئی ہے۔
شمولیتی اور سستی تعلیم
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2000 کے بعد ایسے ممالک کی شرح ایک فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہو گئی ہے جن کے قوانین میں شمولیتی تعلیم شامل ہے جبکہ ایسے ممالک میں ان کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہو چکی ہے جہاں جسمانی معذور بچوں کو عام تعلیمی نظام میں شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔
گزشتہ 25 سال میں ایسے مالیاتی اقدامات کرنے والے ممالک کی تعداد چار گنا سے بڑھ گئی ہے جو پسماندہ طبقات کے لیے تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس وقت 76 فیصد ممالک میں پسماندہ سکولوں کے لیے وسائل کی تقسیم کی پالیسیاں موجود ہیں۔
اگرچہ تعلیم کو سستا بنانے کی کوششوں کے نتیجے میں علم تک رسائی بہتر ہوئی ہے لیکن تعلیمی معیار میں کمی دیکھی گئی ہے۔ نقل و حمل، سکول کے بعد تعلیمی نگہداشت اور کھانے کے اخراجات اب بھی بہت سے خاندانوں کے لیے رکاوٹ ہیں۔ تعلیمی شعبے کو ملنے والی عالمی امداد کم ہونے سے سکولوں کی گرانٹ اور کھانے کے پروگرام (جو 84 فیصد ممالک میں موجود ہیں) خطرے میں ہیں۔
متنوع پالیسیوں کی ضرورت
رپورٹ کے مطابق، تعلیم سے محرومی کا مسئلہ کسی ایک پالیسی سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ پالیسیوں کو مقامی حالات اور مختلف مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، شواہد کی بنیاد پر اور کئی پہلوؤں سے ترتیب دینا ہو گا۔
افریقہ کے 14 ممالک میں جب تعلیم کو صرف مفت ہی نہیں بلکہ لازمی بھی قرار دیا گیا تو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی تعلیم میں ایک سال سے زیادہ اضافہ ہوا۔ جب بچوں سے مشقت لینے کے خلاف قوانین بنائے گئے تو نتائج مزید بہتر ہوئے۔
کمبوڈیا میں صرف بجلی کی فراہمی سے ہی بچوں کی تعلیم میں تقریباً ایک سال کا اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح سکول میں کھانا فراہم کرنے کے پروگراموں کے نتیجے میں کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں ہر 100 ڈالر خرچ کرنے پر نصف سال تک اضافی تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ جب بچوں کو سکول حاضری سے مشروط مالی امداد دی جاتی ہے تو ان کے داخلے کے امکانات 36 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔