انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران جنگ خطے اور دنیا کے لیے انتہائی خطرناک، وولکر ترک

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک، گمشدہ افراد کے بارے میں جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے۔
UN Photo/Evan Schneider اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک (فائل فوٹو)۔

ایران جنگ خطے اور دنیا کے لیے انتہائی خطرناک، وولکر ترک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع مزید پھیلتا اور شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کا سب سے بھاری بوجھ خطے کے شہری اٹھا رہے ہیں۔

ہائی کمشنر نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں ایران کی صورتحال پر اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال نہایت خطرناک اور غیر متوقع رخ اختیار کر چکی ہے۔ اس جنگ نے پورے خطے میں بے یقینی اور افراتفری پیدا کر دی ہے جس سے بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن اور دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔

Tweet URL

ایران نے ان خلیجی ممالک اور اردن میں فوجی اڈوں، رہائشی علاقوں اور توانائی کی تنصیبات پر بڑی تعداد میں ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جن میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

بندرگاہیں، توانائی کے مراکز، ہوائی اڈے، پانی کی فراہمی کے نظام اور سفارتی عمارتیں بھی حملوں سے متاثر ہوئی ہیں جس سے بنیادی سہولیات میں خلل پڑا ہے اور شہریوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

عالمی قوانین کی خلاف ورزی 

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اس جنگ میں ہونے والے بہت سے حملے بین الاقوامی قانون کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں جو شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے منع کرتا ہے۔ قانون کے مطابق ایسے حملوں کی بھی ممانعت ہے جن میں شہری نقصان حد سے زیادہ ہو۔

حالیہ دنوں اسرائیل اور ایران دونوں ممالک میں جوہری تنصیبات کے قریب میزائل حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشیدگی میں مزید اضافہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ ممالک ایک ایسے بحران کے قریب پہنچ رہے ہیں جو کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتا ہے۔

لبنان کا انسانی بحران

انہوں نے لبنان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں شہری ایک اور انسانی بحران میں گھرے ہوئے ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں 79 خواتین، 118 بچے اور طبی عملے کے 40 ارکان بی شامل ہیں۔ رہائشی عمارتوں پر حملوں کے نتیجے میں بعض جگہوں پر پورے کے پورے خاندان ختم ہو گئے ہیں۔ 

اسی دوران ایران اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں جن سے جانی نقصان، شہری ڈھانچے کی تباہی اور لوگوں کی نقل مکانی ہو رہی ہے۔

ایران میں تباہ کن حالات

ایران کے تمام 31 صوبوں کے شہری فضائی حملوں سے بچنے کے لیے پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ایرانی حکومت کے مطابق اب تک تقریباً 1,400 شہری ہلاک اور 20,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

حملوں میں رہائشی علاقوں، شہری تنصیبات اور دیگر محفوظ مقامات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، ثقافتی مقامات، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور توانائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی شہری جہاں ایک طرف ان حملوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں انہیں ریاستی جبر کی ایک نئی لہر کا سامنا بھی ہے جس میں ناجائز گرفتاریاں، سزائیں، دھمکیاں اور سنسرشپ شامل ہیں جبکہ انٹرنیٹ بھی تین ہفتوں سے بند ہے۔

بھوک اور بیماریوں کا خطرہ

وولکر ترک نے کونسل کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بحری نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنے سے عالمی تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے جس کے سنگین نتائج خاص طور پر دنیا کے غریب ترین لوگوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایندھن، ادویات، خوراک اور کھاد جیسی ضروری اشیا سمندر میں پھنس گئی ہیں جس سے توانائی کی عالمی منڈی اور رسد متاثر ہو رہی ہے جبکہ بھوک اور صحت کے بڑے بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع جلد ختم نہ ہوا تو مزید چار کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس کے اثرات کم آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ تباہ کن ہیں۔ بالخصوص جنوبی ایشیا اس صورتحال میں بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ترقی پذیر معیشتیں قیمتوں میں اچانک اضافے کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتیں۔

بھاری معاشی نقصان

انہوں نے اقوام متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے (انکٹاڈ) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انشورنس اور بحری ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس سے دنیا بھر میں بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح، مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن کے مطابق، اس تنازع سے عرب خطے کو 63 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ جنگ کبھی بھی معمول کی بات نہیں ہوتی مگر یہ تنازع غیر معمولی حد تک خطرناک ہے کیونکہ یہ سرحدوں سے باہر نکل کر دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور اس کی پیچیدہ نوعیت کسی بھی وقت قومی، علاقائی یا عالمی بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات نہایت تباہ کن ہوں گے۔

انہوں نے عالمی برادری بالخصوص متحارب فریقین پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی اور حصول امن کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کیا جائے، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔