فلسطینیوں کے خلاف تشدد اسرائیل کی ریاستی پالیسی، انسانی حقوق ماہر
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی غیرجانبدار اطلاع کار فرانچسکا البانیز نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو جبر کے منظم ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے جس نے اب ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل میں قید خانوں کا نظام فلسطینیوں کے خلاف مظالم کی تجربہ گاہ بن گیا ہے۔ جو کچھ پہلے خفیہ طور پر کیا جاتا تھا اب کھلے عام ہونے لگا ہے۔ یہ اذیت اور انسانی تذلیل کا ایک منظم نظام ہے جس کی منظوری اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر دی گئی ہے۔
فرانچسکا البانیز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اعلیٰ حکام، بشمول سابق وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر کی پالیسیوں نے تشدد، اجتماعی سزا اور غیر انسانی حراستی حالات کو ادارہ جاتی شکل دے دی ہے۔ انسانی حقوق کی ان ہولناک پامالیوں میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے بشمول عالمی فوجداری عدالت کے سامنے لایا جانا چاہیے۔
جبر، تشدد، ہلاکتیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 18,500 سے زیادہ فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں کم از کم 1,500 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ہزاروں افراد کسی فرد جرم یا مقدمے کے بغیر قید ہیں۔
بہت سے لوگوں کو جبراً لاپتہ کیا گیا ہے اور تقریباً 100 افراد حراست کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ قیدیوں کو بوتلوں، لوہے کی سلاخوں اور چاقوؤں کے ذریعے جنسی تشدد، بھوک، ہڈیوں اور دانتوں کو توڑے جانے، کتوں کے ذریعے حملوں اور اہلکاروں کی جانب سے جسم پر پیشاب کرنے جیسے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ تشدد صرف قید خانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے مسلسل بمباری، جبری بے دخلی، بھوک، گھروں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی، نگرانی، اور سکیورٹی اہلکاروں اورشدت پسند آبادکار ملیشیاؤں کی کارروائیوں کے ذریعے تشدد کا ماحول قائم کر دیا ہے۔ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی مسلسل اذیت کا شکار ہیں اور ان کے لیے کوئی جگہ تشدد سے محفوظ نہیں رہی۔
نسل کشی کی مہم
رپورٹ کے مطابق تشدد کا منظم استعمال اور فلسطینیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تباہی کی مہم نسل کشی کا ایک لازمی حصہ ہے جو ایک قوم کے طور پر انہیں شدید جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہر طرح کے تشدد اور بدسلوکی کو بند کرے، بین الاقوامی تفتیش کاروں اور امدادی تنظیموں کو مقبوضہ علاقوں میں رسائی دے اور تشدد کے ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنائے۔
فرانچسکا البانیز کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نسل کشی، تشدد اور بین الاقوامی قانون کی دیگر پامالیوں کو روکیں اور ان کے ذمہ داروں کو سزا دیں جن میں اتمار بن گویر، بیزالیل سموترخ اور اسرائیل کاتز جیسے سیاسی حکام بھی شامل ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔