ہیٹی: گزرگاہوں پر گینگ قابض، پولیس ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ’ملوث‘
ہیٹی میں مسلح جرائم پیشہ جتھے اب اہم سمندری اور زمینی راستوں پر بھی قبضہ جمانے لگے ہیں جبکہ ملکی پولیس پر غیر ضروری اور حد سے زیادہ مہلک طاقت کے استعمال اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے دارالحکومت پورٹ او پرنس اور گرد و نواح میں ایسے کم از کم 26 جتھے سرگرم ہیں جہاں تشدد انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ ان حالات میں تقریباً 14 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور 5,500 سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسلح جتھوں نے اپنی رسائی دارالحکومت سے باہر مضافاتی علاقوں کی جانب بڑھا لی ہے اور شمال کی جانب آرٹیبونائٹ اور سینٹر کے علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔ انہوں نے اہم راستوں کو مضبوط قلعوں میں بدل دیا ہے اور سمندری و زمینی گزرگاہوں پر قبضہ کر رہے ہیں جن کے ذریعے ان کی مالی معاونت اور طاقت برقرار رہتی ہے۔
یہ گروہ لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے قتل و اغوا، بچوں کی سمگلنگ، غیر قانونی ناکوں پر لوٹ مار، کاروباری افراد سے بھتہ خوری اور سرکاری و نجی املاک کی تباہی جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
طاقت کا غیرمتناسب استعمال
تشدد صرف مسلح جتھوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں ہیٹی کی سکیورٹی فورسز، نجی سکیورٹی کمپنیاں اور خود ساختہ دفاعی گروہ بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں تقریباً 250 ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں پولیس نے جرائم پیشہ جتھوں کے ارکان یا ان کے مددگار سمجھے جانے والے افراد کو غیر ضروری طاقت استعمال کرتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کیا یا اس کی کوشش کی۔
رپورٹ میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی کی کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے جس کی خدمات مبینہ طور پر ہیٹی کی حکومت نے حاصل کی تھیں۔ اس کمپنی نے اپنی کارروائیوں میں ڈرون اور ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی جس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
خود ساختہ دفاعی گروہوں نے پتھروں، درانتیوں اور جدید اسلحے کے ذریعے مشتبہ جرائم پیشہ افراد کو قتل کیا۔ بعض اوقات یہ کارروائیاں پولیس اہلکاروں کی مبینہ حوصلہ افزائی یا مدد سے کی گئیں۔
عالمی تعاون کی ضرورت
اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ ہیٹی میں استحکام کے لیے امن و امان کی بحالی ضروری ہے مگر صرف یہی اقدام کافی نہیں ہو گا۔ اگر حکمرانی، انصاف، احتساب اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے سماجی خدمات میں بہتری نہ آئی تو سکیورٹی کے حوالے سے کوئی بھی کامیابی عارضی ثابت ہو گی۔ تشدد اور عدم استحکام کے اس سلسلے کو توڑنے کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون اور ہیٹی کی قیادت میں کوششوں کی مدد ناگزیر ہے۔
اس ضمن میں جرائم پیشہ جتھوں کو کچلنے کے لیے گزشتہ سال قائم کی گئی فورس (جی ایس ایف) کا اہم کردار ہو گا جس میں 5,000 اہلکار تعینات کیے جانا ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں ڈینییلا کروسلک کو ہیٹی میں قائم کردہ اقوام متحدہ کے مددگار دفتر (یو این ایس او ایچ) کی سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو اس فورس کو انصرامی معاونت فراہم کرے گا۔