انسانی کہانیاں عالمی تناظر

تپ دق: فوری اور مؤثر تشخیص کے نئے طریقہ کار کی سفارش

دسمبر 2024 میں ٹی بی کے خاتمے کی مہم کا حصہ بنانے کے لیے ہندوستان میں 'نیشنل ہیلتھ میشن' کی لیبارٹری میں لوگ مفت تشخیصی خدمات کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
© WHO India/Sanchita Sharma تپ دق آج بھی دنیا کی مہلک ترین متعدی بیماریوں میں سے ایک ہے۔

تپ دق: فوری اور مؤثر تشخیص کے نئے طریقہ کار کی سفارش

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تپ دق (ٹی بی) کے خاتمے کی جانب اقدامات میں تیزی لائیں اور اس مقصد کے لیے نئے تشخیصی طریقہ ہائے کار جیسی ضروری طبی خدمات تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کو رسائی دی جائے۔

تپ دق کے خلاف آج منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر 'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ اس متعدی مرض کی تشخیص کے لیے جاری کردہ نئی رہنما ہدایات کی بدولت بروقت علاج میں مدد ملے گی۔ اس مقصد کے لیے اب کئی طرح کے آسان ٹیسٹ روایتی مالیکیولر تشخیص کے مقابلے میں نصف سے بھی کم لاگت پر دستیاب ہیں، ان کے لیے درکار آلات بیٹری سے چلائے جا سکتے ہیں اور یہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں نتیجہ لاتے ہیں جس سے مریضوں کے لیے بروقت علاج شروع کرانا ممکن ہوتا ہے۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ نئے تشخیصی ذرائع تپ دق کے خلاف جنگ میں انقلابی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی بدولت تیزتر اور درست تشخیص لوگوں کی رسائی میں ہوتی ہے، جانیں بچائی جا سکتی ہیں، بیماری کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے اور اخراجات کی بچت ہوتی ہے۔ 

یہ آلات تپ دق کے علاوہ دیگر بیماریوں جیسا کہ ایچ آئی وی، ایم پاکس اور ایچ پی وی کی تشخیص میں بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔

بہتر تشخیص کے نئے طریقے

تپ دق کے خلاف 'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ نئی رہنمائی میں آسانی سے لیے جانے والے زبان کی نمی کے نمونے (ٹنگ سواب) کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، ان میں سپوٹم پولنگ (بلغم کے نمونوں کو جمع کر کے ایک ساتھ ٹیسٹ کرنا) کا طریقہ بھی شامل ہے جو کم خرچ ہونے کے ساتھ تیز رفتار معائنوں میں مددگار ہے۔ 

زبان کے نمونے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہیں جو بلغم فراہم نہیں کر سکتے جس سے ایسے افراد میں بھی بیماری کی تشخیص ممکن ہو جاتی ہے جنہیں اس سے لاحق خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ 

تپ دق آج بھی دنیا کی مہلک ترین متعدی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ روزانہ 3300 سے زیادہ لوگ اس مرض کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ 29 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آتے ہیں۔

2000 سے اب تک عالمی کوششوں کی بدولت تقریباً 8 کروڑ 30 لاکھ جانیں بچائی جا چکی ہیں، لیکن صحت کے شعبے میں مالی وسائل کی کمی ان کامیابیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

عالمی دن کا پیغام

 'ہاں! تپ دق کا خاتمہ ممکن ہے: ممالک کی قیادت میں، عوام کی طاقت سے' امسال اس دن کا خاص موضوع ہے۔ اس موقع پر 'ڈبلیو ایچ او' نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ:

  • تپ دق کی نشاندہی کے لیے جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دیا جائے
  • عوامی شمولیت کے ساتھ مراکز صحت کی سہولیات کو مضبوط بنایا جائے
  • صحت کے نظام کو مزید مستحکم کیا جائے
  • تپ دق کا سبب بننے والے سماجی و معاشی عوامل سے نمٹا جائے
  • عالمی بحرانوں کے باوجود تپ دق کے خلاف سہولیات کو محفوظ رکھا جائے

تپ دق کے خلاف 'ڈبلیو ایچ او' کی ماہرتیریزا کاسائیوا کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف سرمایہ کاری ایک دانشمندانہ معاشی فیصلہ ہے کیونکہ اس ضمن میں ہر ایک ڈالر کے بدلے 43 ڈالر تک فائدہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق اور جدت کی ضرورت

اگرچہ نئی تشخیصی ٹیکنالوجی تپ دق کو ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے مگر ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے مزید تحقیق اور سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ فی الوقت اس مقصد کے لیے سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ دستیاب وسائل اس سے کہیں کم ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے حالیہ عرصہ میں 'ٹی بی ویکسین ایکسیلیریٹر کونسل' جیسے اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ نئی ویکسین کی تیاری اور اس تک مساوی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

ادارے نے حکومتوں اور شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ تپ دق کے خاتمے کو صحت کے تحفظ اور صحت عامہ تک مساوی رسائی کے اقدامات کا مرکزی حصہ بنایا جائے۔