مشرق وسطیٰ بحران: جنگ زدہ علاقوں میں ثقافتی ورثے کو خطرہ لاحق
28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر انسانی تکالیف، نقل مکانی اور ہلاکتوں کے علاوہ ایران، اسرائیل اور لبنان میں ثقافتی اہمیت کے حامل متعدد مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایران میں متاثر ہونے والے ایسے تاریخی مقامات میں گلستان پیلس، اصفہان کا چہل ستون محل اور مسجد جامع اور وادی خرم آباد میں تاریخی آثار کے قریب واقع عمارتیں شامل ہیں۔
یہ تمام مقامات اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ اسی طرح اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع وائٹ سٹی اور لبنان کا تاریخی شہر صور بھی اس فہرست کا حصہ ہیں جنہیں جنگ کے ابتدائی تین ہفتوں میں نقصان پہنچا ہے۔
یونیسکو تمام متحارب فریقوں کو ان مقامات کے جغرافیائی محل وقوع سے آگاہ کر رہا ہے تاکہ نقصان سے بچنے کے لیے ہرممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آرمینیا، آذربائیجان، بحرین، قبرص، عراق، اردن، کویت، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، شام، ترکی، متحدہ عرب امارات اور یمن میں واقع مزید کئی مقامات بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
سماجی اداروں کا نقصان
سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا اثر تعلیمی اداروں اور صحافیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اب تعلیم سے وابستہ افراد، طلبہ اور بنیادی ڈھانچہ بڑھتے ہوئے خطرات اور رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق، خطے میں موجودہ حالات کے تعلیم، سائنس اور تحقیقی اداروں پر اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔ اس سے سیکھنے کے عمل، تحقیق اور معلومات تک رسائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال بچوں، نوجوانوں، اساتذہ، محققین اور تعلیمی عملے کے لیے فوری خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ ان اداروں کو بھی کمزور کر رہی ہے جن پر معاشرے بحالی، مکالمے، امن اور استحکام کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
گہرا ہوتا تعلیمی بحران
یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ جنگ جاری رہی تو مشرق وسطیٰ میں تعلیم کا گہرا بحران جنم لے سکتا ہے جس میں کمزور طبقات کے بچوں کو مزید محرومی کا سامنا ہو گا، اساتذہ اور محققین کو نقصان اٹھانا پڑے گا، اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی آئے گی اور خطے کی سائنسی صلاحیتوں کو طویل المدتی نقصان پہنچے گا۔
ادارے نے زور دیا ہے کہ تعلیمی اداروں، تجربہ گاہوں اور تحقیقی مراکز کا تحفظ نہ صرف انسانی ضرورت ہے بلکہ طویل المدتی بحالی، مضبوطی اور امن کے لیے بھی اس کی بنیادی اہمیت ہے۔